menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kya Atish e Namrood Mein Ishq Khud Kooda Tha?

22 0
15.05.2026

کیا آتشِ نمرود میں عشق خود کودا تھا؟

ان کالموں میں عموماً غلطی ہائے مضامین، ہی کی درستی کی جاتی ہے، مگر کبھی کبھی غلطی ہائے مفاہیم، کی درستی کی فرمائش بھی آجاتی ہے۔ کوئی مضائقہ نہیں۔ مفہوم کی غلط فہمی بھی مضمون کی نافہمی سے ہوتی ہے۔ چناں چہ لاہور سے جناب محمداعظم فرمائش کرتے ہیں: "بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق۔ ایک مذہبی اسکالر کی طرف سے اس شعر پر اعتراض آیا ہے، جس سے سماجی ذرائع ابلاغ میں ارتعاش پیدا ہوگیا ہے۔ اگر ممکن ہو تو رہنمائی فرمائیں۔ معترض کا کہنا ہے کہ ابراہیمؑ خود تھوڑا ہی کودے تھے، اُنھیں تو آگ میں پھینکا گیا تھا۔ لہٰذا یہ بات ہی غلط ہے جو علامہ اقبالؔ نے اس شعر میں باندھی ہے"۔

جن مذہبی اسکالر، صاحب نے اقبالؔ کے اس شعر پر اعتراض فرمایا ہے، اُن کے متعلق بتایا گیا ہے کہ اُن کو مذہبی دانشوری، جہیز میں ملی ہے۔ اُن کی شہرت بھی اپنی نہیں، اپنے سسر کی مرہونِ منت ہے۔ واللہ اعلم۔ سسر کا ذکر آگیا ہے تو بتاتے چلیں کہ سسر کو اُردو میں خُسر بھی کہا جاتا ہے اور خُسر عربی میں خسارے کو کہتے ہیں۔ اِنَّ الُاِنُسَانَ لَفِی خُسُرِ۔

خسارے کے بعد نفعے کی بات بھی کہتے چلیں۔ جس علم و فن سے آگہی نہ ہو، اُس پر کوئی حکم لگادینا قطعاً غیر علمی رویہ ہے۔ صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4774 میں سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ، کا ایک قول نقل ہوا ہے۔ یہ قول ہر اُس شخص کو ہر وقت پیشِ نظر رکھنا چاہیے، جسے عالم، ہونے یا عالم، بننے کا دعویٰ ہو۔ سیدنا ابن مسعودؓ کے اُس قول کا اُردو میں مفہوم یہ ہے کہ

"یہ کہنا بھی علم، ہی........

© Daily Urdu