Kash Koi Churi, Chaqu, Qainchi Tez Karne Wala Aaye

کاش کوئی چھری، چاقو، قینچی تیز کرنے والا آئے

پرسوں پرلے روز کی بات ہے، ایک سیاسی رہنما کی طرف سے ایک سوال آیا: "سان چڑھانا کسے کہتے ہیں؟"

سوال سنتے ہی سوچوں کے سنّاٹے میں ایک صدا گونج اُٹھی: "چھری، چاقو، قینچی تیز کرالو"۔

یہ صدا ہمارے سدا جھگڑنے والے سیاست دانوں کے لیے کتنی پُرکشش ہوگی، اس کا ہمیں اندازہ نہیں ہے، لیکن کچھ عرصہ پہلے تک ہماری گلیوں میں یہ پُکار ہفتے میں کم از کم ایک بار ضرور گونجا کرتی تھی۔ اب بھی عید الاضحیٰ کے موقعے پر کبھی کبھار اور کہیں نہ کہیں، کوئی نہ کوئی پُکارنے والا سفید پوش محلّوں کے گلی کوچوں میں یہ صدا لگاتا ہوا نکل ہی آتا ہے کہ "چھری، چاقو، قینچی تیز کرالو"۔

گلی گلی گھوم کر اپنا ہنر دکھانے اور حق حلال کی روزی کمانے کا یہ سلسلہ اب ہمارے گلی کوچوں سے شاید ختم ہوتا جارہا ہے۔ یہ ہنر بھی ختم ہورہا ہے۔ ہوتے ہوتے بہت سے ہنر ختم ہوگئے۔ کس کس کا گلہ کیجیے، کس کس کو روئیے۔ صاحبو! یہ جو جدید دور ہے اس میں بقولِ شاعر:

اوج پر ہے کمالِ بے ہنری باکمالوں میں گِھر گیا ہوں میں

چھری، چاقو، قینچی تیز کرنے والا ہنرمند پہلے پہل تو اپنے کندھے پر سائیکل کے بہت بڑے پہیے جیسی مشین اُٹھائے، نگر نگر اور ڈگر ڈگر پھرتا تھا مارا مارا۔ اُس دُکھیا کا اِس دنیا میں یہی تھا ایک سہارا۔ جس گھر سے کام مل جاتا اُس کے آگے ڈیرا ڈال دیتا۔ مشین کندھے سے اُتارتا، پہیے کو پیڈل سے چلاتا اور ایک گول پتھر گردشِ ایام کی طرح پوری تیز رفتاری سے گھومنے لگتا۔ اب وہ چھری، چاقو، قینچی باری باری اُس گول پتھر سے رگڑتا، چنگاریاں نکلتیں اور دم بھر میں اوزار کی دھار اتنی تیز ہوجاتی کہ اُنگلی........

© Daily Urdu