Muzir e Sehat Maloomat
امریکہ نے جنگ میں ایران کے پل تباہ کرنا شروع کر دئیے ہیں۔ دارالحکومت تہران کو پڑوسی شہر کرج سے ملانے والا پل گزشتہ روز تباہ کر دیا گیا، ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ مزید پل بھی تباہ کریں گے۔
جنگوں میں متحارب ملک ایک دوسرے کے پل اس لئے تباہ کرتے ہیں کہ فوجوں کی نقل و حرکت یا میدان جنگ میں کمک کا راستہ روکا جا سکے لیکن یہ جنگ تو ویسی ہے ہی نہیں۔ یہ تو ایسی انوکھی جنگ ہے جس میں کوئی میدان جنگ موجود ہی نہیں، میدان جنگ کی جگہ فضائے جنگ البتہ ہے۔ ساری لڑائی فضا میں منڈلاتے میزائلوں اور جہازوں پر مشتمل ہے، پھر پل تباہ کرنے کی کیا وجہ ہے۔ اس سے تو عوام متاثر ہوں گے۔ ایران نے جواب میں عرب ملکوں کے پل تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے بلکہ سعودی عرب کو بحرین سے ملانے والے سمندری پل یعنی کازوے کو تباہ کر بھی دیا ہے۔ جبکہ یہ پل کسی قسم کے فوجی مقصد کیلئے استعمال نہیں ہو رہا تھا۔ ایران عرب ممالک کی آئل ریفائنریوں کو بھی مسلسل نشانہ بنا رہا ہے۔
اِدھر امریکی انٹیلی جنس نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے کم از کم 50 فیصد ڈرون طیاروں کے ذخائر بدستور محفوظ ہیں۔ اس سے پہلے صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی بمباری سے ایران کے میزائل اور ڈرون ذخائر کا 80 فیصد خاتمہ کیا جا چکا ہے، پھر انٹیلی جنس کی خبر آئی کہ میزائل 33 فیصد تباہ ہوئے، 33 فیصد ایسی گہرائی میں ملبے تلے دب گئے کہ ناقابل استعمال........
