TTP, Molana Ka Istadlal Aur Americi Afreet |
پاک بھارت جنگ سمیت دیگر پانچ جنگیں رکوانے کا سہرا سر پہ سجانے والے امریکی صدر نے وہ اقدام کیے اور جارحانہ عزائم ظاہر جو زمانہ قدیم کا رواج یعنی طاقت کی بنیاد پر وسائل اور رہاستوں پر قبضہ! ان امریکی اقدامات نے کمزور بالخصوص معدنی ذخائر سے مالا مال ممالک کے لیے خطرہ کی گھنٹی بجا دی۔ ٹرمپ کا معاملہ اس لحاظ سے دیگر صدور سے مختلف کہ یہ کانگریس، سینٹ یا کابینہ سے منظوریوں کے چکر میں پڑنے والے نہیں۔
ایران پر خطرات کے بادل یقیناََ گہرے ہوتے جا رہے ہیں وہاں شام والی صورتحال پیدا کی جا رہی ہے اور موجودہ انقلابی قیادت کو تبدیل کرنے کی منظم سازش مگر افسوس کہ ہر بار سازش کا شکار مسلمان ہی بنتے ہیں، لیبیا، مصر، عراق، سوڈان، یمن و دیگر، جہاں جہاں ان ممالک کے عوام نے غیر ملکی طاقتوں کے ایما پر نفرتوں کے بے لگام الاو جلائے تو اپنے لیے مصائب پیدا ہی پیدا کیے۔ موجودہ حالات پاکستان کے لیے گہری تشویش کا باعث کہ ایک طرف اسے سعودیہ اور امارات کے مابین توازن برقرار رکھنا ہے اور دونوں برادر ممالک میں کشیدگی کو روکنا تو دوسری طرف ایران میں جاری فسادات بھی پاکستان کے لیے نیک شگون نہیں کہ ایک عرصہ بعد ایران اور پاکستان کے مابین اعتماد سازی ہوئی کہ اس سے قبل ایران کا جھکاو بھارت کی طرف رہا۔
ایران اسرائیل جنگ نے ایرانی قیادت کو دوست دشمن میں فرق واضح کیا تو اب وہی سازشی عناصر جن میں اسرائیل شامل ایران کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف۔ ایران میں موساد، سی آئی اے اور را کا نیٹ ورک فسادات کو پرتشدد بنا رہا ہے۔ اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ادھر غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق موجودہ بدلتی صورتحال میں کہ جب دنیا کے کئی ممالک کو اپنی بقا کے لالے پڑے ہیں اور وہ تنہا امریکی عفریت کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں تو اس صورتحال میں........