Thora Sa Inhiraf, Iss Bar Kar Lijiye
تھوڑا سا انحراف، اس بار کر لیجیے
محترم زرداری، نواز شریف و مولانا سے عرض کہ حضور نوشتہ دیوار لکھا جا چکا۔ عوام کو جہالت غربت پس ماندگی اور اندھیروں میں رکھ کر ملک چلے گا یا آپکی سیاست۔ اب نظام کی رخصتی کا وقت ہے بہتر ہے کہ اس کے ساتھ رخصت ہونے سے بچنے کے لیے اختیارات کی تقسیم اور انتظامی یونٹس بارے عوامی جذبات کا خیال کریں۔
مجھ میں کتنے راز ہیں بتلاوں کیا
بند اک مدت سے ہوں کھل جاوں کیا
عاجزی، منت، خوشامد، التجا
اور میں کیا کیا کروں، مر جاوں کیا
عام آدمی کے مسائل آپ کی طرح بڑے ہیں اور نہ آپکی چالوں کی طرح پیچیدہ۔ اپنے مفادات کے لیے عورت کی حکمرانی کا جواز بھی آپ کے ہاں ملتا ہے تو کہیں ڈکٹیٹر کی بیعت کا۔ آئینی حدود میں رہتے ہوئے آپ نے اب تک بڑے کمالات کیے۔ اس بارجانے دیجئیے، عوام کی خاطر، در گزر کیجیے۔ سندھ، بلوچستان، پنجاب اور KP کے دور دراز علاقوں کے رہنے والے مجبور، بےبس اور غریب لوگوں کی خاطر آئین سے زرا سا انحراف کر لیجیے! عام آدمی کی بھی زرا سنیے جب سے معلوم پڑا کہ دارالحکومت ہماری کٹیا کے قریب بننے کو ہے، تو یقین جانیے دل تھامنا مشکل ہوگیا مگر ایک منحوس نے خبر اڑائی کہ بلاول زرداری، مولانا فضل الرحمن کھلے بندوں، نواز شریف کی خاموشی اور PTI کے جنرل سیکرٹری امیدوں کی راہ میں روکاوٹ تو اس روز سے ہمارے گھروں میں صف........
