One Constitution Corruption Case Taleemi Zawal Ka Nuqta e Kamal |
ون کانشٹیٹیوشن کرپشن کیس تعلیمی زوال کا نکتہ کمال
طاقت اور قانون سازی کے مرکز اسلام آباد میں ون کانشٹیٹیوشن ایونیو اور اس طرز کے لاتعداد کیس صرف ریگولیٹری اداروں کی بدنیتی، نااہلی اور بددیانتی کی مثال نہیں بلکہ اس کی جڑیں ہمارے نصاب و نظام تعلیم سے جا جڑتی ہیں۔ آپ پوچھیں گے کہ ون کانشٹیٹیوشن ایونیو کیس میں تعلیمی ناکامی کہاں سے آن ٹپکی؟ جی ہاں ہر برائی اور ہر ظلم کی ایک بنیاد ہوتی ہے اور خرابی کی ظاہری و بنیادی وجوہات۔ بالکل اسی طرح ہمارا نظام و نصاب تعلیم لاقانونیت، جھوٹ کرپشن اور اخلاقی زوال کی بنیادی وجہ جبکہ بظاہر سرکاری عمال۔
جھوٹ اور بدعنوانی پاکستان کے دو بڑے مسائل، بلکہ کینسر اور معیشت اور قرضوں سے بھی بڑے۔ جی ہاں میرا استدلال بڑا واضح کہ ان دونوں مسائل اور معاشرے میں اس کے تیزی سے پھیلاو کی وجہ ناقص، بے مقصد اور ہمارے معاشرے سے عدم آہنگ تعلیمی نظام۔ آپ کرپشن کے ہزاروں کیسسز اور ماضی کی لاتعداد بدعنوانیوں کو چھوڑیئے تازہ مثال سے بات سمجھنے کی کوشش کریں کہ ون کانشٹیٹیوشن ایونیو کرپشن کیس کے سبھی کردار CDA، خرید کنندگان، عدلیہ، قانون دان کیا سبھی اعلی تعلیم یافتہ نہیں؟ کیا وہ اس سے لاعلم کہ وہ صرف آئین اور قانون کی نہیں اسلامی اقدار اور اخلاقیات کی دھجیاں اڑا کر اپنی آخرت برباد کر رہے ہیں؟
اگر ہمارے نصاب و نظام تعلیم نے ان کے اندر سچائی، راست گوئی، دیانت، امانت، نظم و ضبط کا جذبہ پیدا اور انکی صحیح معنوں میں کردار سازی کی ہوتی تو کیا 75 سال بعد بھی ملک ان رزائل کے ہاتھوں برباد ہو رہا ہوتا؟
پاکستان میں سالانہ 5 سے چھ ہزار ارب کی معلوم بدعنوانی ہوتی اور ہر سال تین سے چار بلین ڈالرز کی منی لانڈرنگ، منی لانڈرنگ سے یاد آیا کہ ڈالر گرل کو گرفتار کرنے والے تو اللہ کے حضور پہنچا دئیے گئے کہ کوئین کے ہاتھ لمبے اور........