Khoon Behta Hai To Tehzeeb Hai Matam Karti |
خون بہتا ہے تو تہذیب ہے ماتم کرتی
خبر کے مطابق اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل آمنہ جے محمد نے کہا ہے کہ دنیا پر درندوں کا قبضہ ہے۔ بین الاقوامی برادری کی بے حسی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سکوت اور عالمی قوانین کی ناکامی کو بھی انہوں نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ماتم کننداں تہذیب ہے اور درندگی کی نئی امثال۔ اسی تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے ہی شاید امریکی صدر نے تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی بجٹ 81 کھرب 27 ارب مانگ لیا۔
ظاہر ہے امریکی بجٹ کا یہ حصہ انسانیت کی فلاح پر تو خرچ ہونا نہیں اس کے لیے اس نے نئے محاذ ڈھونڈنے ہیں اور امریکی اسلحہ کی کھپت کے انتظام بھی کرنا ہے کہ ہر صدارتی مہم میں اسلحہ ساز کمپنیاں ہی فنڈ ریزنگ مہم میں پیش پیش، پھر دفاعی بجٹ کا بڑا حصہ دنیا میں فتنہ و فساد کی جڑ اسرائیل کے لیے بھی تو مختص کیا جانا مقصود کہ جس کی وجہ سے ایک طرف عربوں کو ڈرا دھمکا کر دفاع کے نام پر ان سے اربوں بٹورنا تو دوسری طرف ان پر اپنا دبدبہ قائم رکھنا۔
اسرائیل تو اقوام عالم کا وہ بگڑا لاڈلا کہ وہ جب چاہے جہاں چاہے عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیرے مگر مجال کہ دنیا کی بڑی اور نام نہاد جمہوریتوں کو اس کی مذمت تک کی توفیق ہو۔ برکس جیسے عالمی فورم کا حال ہی دیکھ لیں گزشتہ روز نئی دلی میں ہونے والے اجلاس میں کوشش کے باوجود اسرائیلی جارحیت کی مذمت نہ کی جا سکی کہ میزبان بھارت اور یو اے ای آڑے رہے۔
آمنہ جے........