menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aur To Kuch Nahi Kya Main Ne

17 0
monday

اور تو کچھ نہیں کیا میں نے

بعض تجزیہ نگاران کی اس بات سے فوری اتفاق کیسے کیا جائے! کیونکہ تصدیق یا تردید ممکن نہیں کہ "موجودہ رہبر مجتبی خامنہ ای قومہ میں اور ان کے ایما پر فیصلہ سازی پاسداران کے کمانڈر انچیف کے دفتر سے کی جا رہی ہے"۔ ذرائع نے یہ بھی لکھا ہے کہ موجودہ صدر ایران کے سابق سیکرٹری نیشنل سیکورٹی کونسل علی لاریجانی کی شہادت کے بعد باقر ذوالقدر کی تعیناتی نہیں چاہتے تھے گو کہ باقر ذوالقدر پاسداران کے سابق ڈپٹی کمانڈر اور محمود احمدی نزاد کے دور میں وزیر دفاع بھی رہے مگر واقفان حال اسے IRGC کے قائم مقام کمانڈر ان چیف جنرل احمد وحیدی کے دباو کا نتیجہ قرار دیتے ہیں"۔

فی الوقت ایرانی قیادت مومنانہ بصیرت کی بجائے، بے سروپا و اشتعال انگیزی پر مبنی امریکی بیانات پر تحمل اور امن کو موقع دینے کی بجائے ذہنی خلفشار کے شکار صدر کی ذہنی سطح پر آ کر جواب در جواب اور اقدامات اٹھا رہی ہے۔ جو مذاکراتی عمل کو سبوتاژ اور ایران امن کا راستہ کھو رہا ہے۔ جلتی پر تیل کہ پاسداران سرعام معاہدہ اسلام آباد کے خاتمہ کا اعلان بھی کیے بیٹھے ہیں۔ ایران کو علم نہیں کہ معاہدہ اسلام آباد ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر دو چار ملاقاتوں کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ کئی ہفتوں کی مخلصانہ و کٹھن ترین سفارت کاری اور عالی دماغوں کے کئی جگ رتوں کا ثمر کہ جسے نہ صرف مسلم Quad ممالک بلکہ چین حتی کہ روس کی حمایت بھی حاصل تھی اور یورپی یونین بشمول عالمی دنیا اسے خوش آئند قرار دے رہی تھی اور اسی معاہدہ نے ہی آگے چل کر ایران کے لیے دنیا بھر کے لیے دروازے........

© Daily Urdu