Tazkiya e Nafs Aur Ilm e Ladunni
تزکیہ نفس اور علم لدّنی
لاکھوں کروڑوں درود و سلام سرکار ﷺ کی ذات آقدس پر۔
تعلیم یافتہ اور ہوتا ہے اور علم یافتہ اور، دنیاوی تعلیم آپ کالجوں یونیورسٹیوں سے حاصل کرتے ہیں جس کو کہ عام طور پر ذریعہ روزگار بنایا جاتا ہے، علم اور چیز ہے، علم مدرسوں کالجوں یا یونیورسٹیوں سے حاصل نہیں ہو سکتا۔
وہ خوش نصیب انسان ہوتے ہیں جن کو کہ یہ علم عطا کیا جاتا ہے، اس کو علم لدّنی کہتے ہیں، علم لدّنی دنیا کا علم نہیں یہ باطن کا علم ہے باطن کی کائنات کا علم ہے، جب محبوب آپ کو پسند فرمائے تو پھر یہ علم عطا ہوتا ہے، یہ جاری علم ہے جو کہ اللہ کے نور سے مومن کے سینے میں چلتا ہے، یہ وہی علم ہے جو کہ حضرت امام غزالیؒ پر اُترا جب آپ نے اپنے باطن میں وہ حقیقت پیدا کی جو کہ اِس علم کو حاصل کرنے کے لیے مطلوب تھی۔
حضرت اِقبالؒ بھی گرچہ دنیاوی طور پر اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے لیکن اس علم کا فیض تھا کہ اُن کی........
