Qalanch Ki Shayari

ریاست علی راحت کی شاعری کے بارے ڈاکٹر اثر الاسلام سید لکھتے ہیں: "ریاست علی راحت ایک ایسی نازک اور گہری آواز کے ساتھ ابھر رہے ہیں جو دلوں پر نقش چھوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے، ان کے اشعار بالکل ایسے جیسے جان کیٹس کی شاعری، ایک لازوال حسن، ایک گہری کسک سے لبریزہے جو لمحاتی بھی ہے اور دائمی بھی"۔ بقول اعتبار ساجد: "ریاست علی راحت نے زندگی سے رس کشید کرکے کشت سخن کی آبیاری کی ہے"۔

بقول ڈاکٹر جواز جعفری: "ریاست علی راحت ایک ایسا شاعر ہے جو گونگے، بہرے اور خوابیدہ لوگوں کت درمیان بیداری کا فریضہ سرانجام دے رہا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ خواب سے بچھڑے ہوئے لوگ اپنے شاعر کی طرح ایک روشن صبح کے خواب میں شریک ہو جائیں "۔ ریاست علی راحت سے پہلا تعارف اس کی شاعری بنی، پھر جب انھیں مختلف مشاعروں میں سنا تو ایک خوش گوار حیرت ہوئی، ایک ایسا شاعر جو باقی ہزاروں لاکھوں سے شاعروں سے ہٹ کر سوچتا ہے، جس کے خواب باقی دنیا سے مختلف ہیں، جس کے شعری جہان، کسی بھی جہانِ حیرت سے کم نہیں۔

ریاست علی راحت کا فکری نظام اس بات کا گواہ ہے کہ اس نے کلاسیک و جدید کے تما ذائقوں کو نہ صرف چکھا ہے بلکہ ان کا رنگ، اس کے کلام میں دیکھا اور محسوس کیا جا سکتا ہے۔ حافظ آباد کی دھرتی سے تعلق........

© Daily Urdu