Fitrat Ka Zauq e Moseeqi

بڑے بزرگوں سے سنا تھا کہ جب جاڑے کے خنکی زدہ دن طویل ہو جاتے، درختوں کے سوکھے پتے ایک بوند کے انتظار میں چر چرا کر دم توڑ دیتے، بارش کا دور دور تک نام و نشان دکھائی نہ دیتا، تو لوگ کسی بزرگ ولی، بابے سے درخواست کرتے کہ وہ بارش کی دعا کرے، دعا کا انتظام نماز استسقاء کی صورت میں کیا جاتا۔۔ ہاتھ پھیلا کر اللہ میاں سے باران رحمت کی درخواست کی جاتی۔ اور بزرگ ولی اس وقت ہاتھ نیچے نہ کرتا جب تک بارش کی یلغار خشک سالی کا تیا پانچہ نہ کر دیتی۔۔

بڑوں سے ہم نے جو سنا وہ ہم نے آج تک دیکھا نہیں شاید یہ دور قحط الولایت کا دور ہے، مگر میں نے یہ ضرور پڑھا کہ تان سین کے راگوں میں اتنی تاثیر تھی کہ وہ راگوں سے کھیلتے کھیلتے بارش لے آتا۔۔ پتہ نہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ نہیں مگر مجھے لگتا ہے فطرت کبھی بے ذوق نہیں ہوتی اس کا ذوق موسیقی بہت اعلی ہے، اچھے سر تال، راگ کی داد فطرت بھی ضرور دیتی ہے۔۔

یہ لخن داؤدی کا اثر تھا کہ پرندوں کو مسحور کر دیتا، کہیں شاہ اسماعیل شہید کے متعلق بھی پڑھا تھا کہ وہ کافی خوش الحان تھے، قیام بالاکوٹ کے دوران پہاڑوں پر بیٹھ کر اس سوز و ساز سے تلاوت کرتے کہ پرندے فضا میں رک جاتے، شاید یہ بھی روحانی گپ ہی ہو، مجھ جیسا........

© Daily Urdu (Blogs)