Nasri Nazm Ki Himayat Mein
نثری نظم کی حمایت میں
ن م راشد ایک ویڈیو انٹرویو میں اپنی لکھی ہوئی تین نثری نظموں کا جواز پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے نظم پریڈ، کے چند مصرعے نثری ترتیب سے لکھے تو ان میں مجھے شاعرانہ حسیاسیت نظر آنے لگی۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر میں ان مصرعوں کو پابندِ وزن کرنا چاہتا تو وہ اس فعولن فعولن، کی وجہ سے بدل جاتا۔
یہ راشد صاحب کی اختراع نہیں ہے، نثری نظم کے داعی اس سے پہلے اور اس کے بعد بھی مسلسل کہتے چلے آئے ہیں کہ وزن بعض اوقات اظہار کی راہ میں روڑے اٹکاتا ہے، اردو میں مستعمل چند ہی بحریں ہیں، آپ ایک بحر میں لکھنے بیٹھیں تو پتہ چلتا ہے کہ کچھ لفظ اس بحر میں سما ہی نہیں سکتے، چنانچہ انہیں لفظ بدلنا پڑتا ہے اور یوں معنی ہی بدل جاتے ہیں، جس کا خمیازہ آرٹ کی دنیا کو بھگتنا پڑتا ہے۔
گویا بےچارے شاعر کے دل پر تو نہ جانے کیا کیا الوہی خیال (شاعرانہ حساسیت) اترتے رہتے رہتے ہیں لیکن ردیف و قافیہ اور بحر کی جکڑبندیاں ظالم سماج (فعولن فعولن) کی طرح بیچ میں حائل ہو کر لفظ اور معنی کا ملاپ نہیں ہونے دیتیں اور بےچارہ خیال ان کہا رہ جاتا ہے۔
اب یہاں ایک بڑا گہرا اور گاڑھا سوال پیدا ہوتا ہے کہ خیال کیا ہے اور اس کی پیشکش کیا ہے؟ دوسرے لفظوں میں آرٹ کیا ہے، کرافٹ کیا ہے اور دونوں کے بیچ میں کیا تعلق ہے؟
یہ سوال تھوڑا پیچیدہ ہے، اس لیے اس کا جواب بھی نسبتاً پیچیدہ اور تھوڑا سا پوشیدہ ہوگا۔ سو کرپیا کرسی کی پشت سیدھی کر لیجیے اور سیٹ بیلٹ باندھ لیجیے۔
انسان کی فطرت ہے کہ وہ کسی بھی ہنر اور اس کی نسبت سے ہنرمند فرد کی طرف نہ چاہتے ہوئے بھی کھنچتا چلا جاتا ہے۔ اس کی جڑیں ارتقا میں پیوست ہیں۔ لاکھوں برس کے ارتقائی عمل کے دوران فطرت نے انسان کے اندر جہاں دوسرے جذبے، جیسے مامتا، حسد، نفرت، پیار، حب الوطنی، قبیلے کی محبت، وغیرہ رکھے، وہیں اس کے اندر........
