Gurg e Shab
آپ نے فلموں میں دیکھا ہوگا کہ بلندی پر اڑتے جہاز کا دروازہ یا کھڑکی کسی حادثے سے کھل جاتی ہے اور جہاز کے اندر ایک تلاطم برپا ہو جاتا ہے۔ ہر شے بگولوں کی زد میں آ جاتی ہے، سامان، لباس اور خود مسافر اس جھکڑ میں کاغذ کی کترنوں کی طرح اڑتے پھرتے ہیں اور ہیرو یا اس کے حواری بمشکل سیٹ یا کسی دیوار کو مضبوطی سے تھام کر خود کو خلا کا نوالہ بننے سے بچاتے ہیں۔
اکرام اللہ کے ناول گرگِ شب، پڑھتے وقت میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ جیسے کتاب کے ورق نہیں کھولے، غلطی سے 40 ہزار فٹ کی بلندی پر اڑتے جیٹ کا دروازہ کھول لیا ہے۔ پھر جو جھکڑ چلے انہوں نے گرگِ شب، کے بارے میں پہلے سے پڑھی سنی باتیں، محمد خالد اختر اور محمد سلیم الرحمٰن (دونوں پسندیدہ ادیب) کے اسی ناول کے شروع میں دیے گئے دیباچے، اردو ناول کے اسالیب کے بارے میں نظریات، اردو نثر کے امکانات کے بارے تصورات سبھی دماغ کے اندر ادھر ادھر پھڑپھڑانے لگے۔
یہ ناول نہیں ہے، فورس آف نیچر ہے، کوئی وبا ہے، کوئی کلاؤڈ برسٹ ہے، آتش فشاں کے دہانے سے چھلکتا لاوا ہے جو ہر شے کو لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ بلکہ یہ استعارے ناکافی ہیں، گرگِ شب، کی شدت اور حدت کو اسی کی ایک ڈیوائس کی مدد سے بیان کیا جا سکتا ہے۔ ناول کے مرکز میں چند کابوس ہیں، جو ہر رات اندھیرا پھیلتے ہی مرکزی کردار شفیع کو دبوچ لیتے ہیں اور اسے زندگی گزارنے جوگا نہیں چھوڑتے (ناول کا نام گرگِ شب، غالباً اسی وجہ سے رکھا گیا ہے)۔ بالکل ایسے ہی یہ ناول بھی ایک کابوس ہے جو قاری کے حواس پر سوار ہو جاتا ہے اور کتاب ختم ہونے کے بہت عرصے بعد بھی اپنے چنگل سے نکلنے نہیں دیتا۔
اکرام اللہ کے اس ناول کا ذکر ادھر ادھر سننے کو ملتا تھا، ساتھ میں یہ بھی حاشیہ بھی کہ اس پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ کس واسطے کہ اس کے مواد پر جنس کا غلبہ تھا۔ لیکن اس کے علاوہ نہ تو گرگِ شب، کا ذکر اردو ناول نگاری پر کسی تنقیدی کتاب میں آتا ہے نہ ہی اکرام اللہ پر کوئی نصف سنجیدہ تنقیدی مضمون پڑھنے کو ملا۔
گرگِ شب، شروع کیا تو ایک نشست کے بعد دوسری نشست کا انتظار کرنا سوہان ہوگیا۔ ختم کرکے کتاب بند کی تو کان بھی ساتھ ہی یوں بند ہو گئے جیسے بم دھماکے کے بعد قوتِ سماعت کچھ دیر کو مختل ہو جاتی ہے۔ جب حواس بحال ہوئے تو اسے اردو ناول کی تاریخ میں الگ کھڑا پایا۔
ہمارے ہاں بڑا بڑا ناول لکھا گیا ہے، تاریخی ناول، سماجی ناول، نفسیاتی ناول، رومانوی ناول، دہشت ناک ناول، فلسفیانہ ناول، وغیرہ۔ لیکن نفسیاتی دہشت ناک، (psychological horror) ناول کی شاید یہ پہلی مثال ہے۔
لیکن ایسا بھی نہیں کہ ناول صرف نفسیات کی سطح پر تیرتا رہتا ہے۔ اس کی جڑیں اصل زندگی میں بھی دور تک پیوست ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ جب ناول اچانک حقیقت سے اٹھ کر نفسیاتی دہشت کی دنیا میں........
