Bait Ul Hikmat: Islami Golden Age Ka Muamar Ya Mehaz Aik Kutub Khana?
بیت الحکمت: اسلامی گولڈن ایج کا معمار یا محض ایک کتب خانہ؟
"بیت الحکمت" کو ہمارے ہاں ایک اساطیری حیثیت حاصل ہوگئی ہے اور اس کے بارے میں عام سمجھا جاتا ہے کہ یہ عباسی دور میں قائم ہونے والی ایک ملٹی ڈسپلنری اکیڈمی تھی جس نے نہ صرف یونانی سے بڑے پیمانے پر کتابیں عربی میں ترجمہ کروائیں بلکہ یہاں بڑے پیمانے پر اوریجنل تحقیق بھی ہوا کرتی تھی۔ سمجھا جاتا ہے کہ اسی ادارے نے تنِ تنہا اسلامی علوم و فنون کی ترویج کرکے اسلامی گولڈن ایج کی بنیاد رکھی۔
چنانچہ اردو "دائرۃ المعارف اسلامیہ" جلد چہارم میں "بیت الحکمہ" کے تحت لکھتا ہے: "ایک علمی ادارہ جس کی بنیاد خلیفہ المامون نے جندے سابور (اصل نام گوندی شاہ پور) کی قدیم درسگاہ کی بنیاد پر بغداد میں رکھی تھی۔ اس کا بنیادی کام یہ تھا کہ ان فلسفیانہ اور علمی تصانیف کا یونانی سے ترجمہ کیا جائے جنہیں ایک روایت کی رو سے خلیفہ کا بھیجا ایک وفد ملک روم سے لایا تھا۔۔ یہاں کا عملہ مترجمین ایک اہم جماعت، جن میں مشہور ترین بنوالمنجم تھے، نیز خوشنویسوں اور جلد سازوں پر مبنی تھا"۔
یہی نہیں بلکہ آگے چل کر دائرۃ المعارف نے یہ بھی بتایا ہے کہ "اس ادارے سے فلکیات کی رصدگاہیں بھی ملحق تھیں"۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جیسے بیت الحکمت گویا کسی جدید یونیورسٹی کی مانند علمی اور تحقیقی ادارہ تھا جس نے عباسی دور کی ابتدا میں اسلامی علوم و فنون کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا۔
اردو دائرۃ المعارف کا ماخذ "انسائیکلوپیڈیا اسلامیکا" تو ایک قدم اور آگے چلا گیا ہے اور اس نے بغیر کوئی حوالہ دیے اس بیت الحکمت کے قیام کی تاریخ بھی پیش کر دی ہے، یعنی مامون کے دور میں 832 عیسوی۔ یہ اور بات کہ انسائیکلوپیڈیا بریٹینکا نے یہی تاریخ 830 بتائی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 833 میں مامون چل بسا تھا، اس لیے اگر بیت الحکمت نے کوئی کارہائے نمایاں سرانجام دیے بھی ہیں تو اس کا بہت زیادہ کریڈٹ مامون کو نہیں دیا جا سکتا۔
برسبیلِ تذکرہ، اردو دائرۃ المعارف کا اس میں قصور نہیں، انہوں نے کم از کم یہ آرٹیکل ہوبہو انگریزی سے ترجمہ کیا ہے، اپنی طرف سے کمی ہی کی ہے، بیشی نہیں۔ کمی اس لیے کہ ایک فقرہ غلط ترجمہ کر بیٹھے ہیں۔
چونکہ ترجمے ہی کی بات ہو رہی ہے اس لیے تقابل ضروری ہے۔........
