Professor Richard Feynman Ki Yaad Mein
پروفیسر ریچرڈ فائن مین کی یاد میں
گیارہ مئی انوسی اٹھارہ کو نیویارک میں ایک بچہ پیدا ہوا۔ جو مرتے دم تک سوال کرتا رہا۔ اس کے باپ نے اسے یہ نہیں سکھایا کہ چیزوں کے نام کیا ہیں۔ اس نے سکھایا کہ چیزیں کیسے چلتی ہیں۔ جنگل میں جاتے، پرندہ اڑتا دیکھا، باپ کہتا "بیٹے۔۔ اس کا نام اطالوی میں یہ ہے، پرتگالی میں وہ ہے، چینی میں کچھ اور، لیکن ان سب ناموں کو جاننے کے بعد بھی تم اس پرندے کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ نام جاننا، چیز جاننا نہیں ہوتا ہے"۔ یہ ایک باپ کا اپنے بچے کے لئے بڑا سبق تھا۔ یہ سبق ریچرڈ فائن مین نے زندگی بھر نہ بھولا۔
آج ہمیں بھی یہ سبق سیکھنے اور اپنے بچوں کو سکھانے کی ضرورت ہے۔
فائن مین نے طبیعیات میں جو کام کیا وہ صرف سائنس نہیں تھا وہ ایک طرزِ زندگی تھا۔ ایک فلسفہ تھا۔ ایک جنون تھا۔ وہ اپنی لیبارٹری میں بیٹھ کر گھنٹوں کام کرتا تھا۔ وہ لاس ویگاس جاتا ہے، تاریخ بناتا تھا اور پھر واپس آ کر نوبل انعام جیت لیتا ہے جیسے کوئی عام آدمی بازار سے سودا لے کر آیا ہو۔ انیسو پینسٹھ میں فائن مین کو طبیعیات کا نوبل انعام ملا۔........
