Aap Ke Andar Ka Jadugar

اگر ایک خیال آپ کو جکڑ سکتا ہے، تو ایک خیال آپ کو آزاد بھی کر سکتا ہے۔ ایک نوجوان پادری ملکہ کے سامنے کھڑا ہے۔ اُسے تقریر کرنی ہے۔ سامنے بھرا دربار ہے اور سب کی نگاہیں اُس پر جمی ہیں۔ اچانک اُس کا گلا سوکھنے لگتا ہے۔ ہاتھ کانپتے ہیں اور ذہن خالی ہو جاتا ہے۔ ایک لفظ منہ سے نہیں نکلتا۔ ڈر نے اُسے جکڑ لیا ہے۔ تبھی اُس کا باپ جھک کر کان میں ایک چھوٹا سا جملہ کہتا ہے اور پھر، جیسے ایک سیکنڈ میں جادو ہوگیا ہو، ڈر غائب ہو جاتا ہے۔ نوجوان روانی سے بولنے لگتا ہے۔ اُس دن کے بعد وہ نوجوان یہ سوال کبھی نہ بھول سکا۔ ایک معمولی جملہ، آخر اِتنی تیزی سے میرے پورے جسم کو کیسے بدل گیا؟

یہ احساس آپ کو بھی جانا پہچانا لگے گا۔ یاد کریں امتحان سے پہلے دل کی تیز دھڑکنیں۔ کسی اجنبی سے بات کرنے سے پہلے پیٹ میں ہلچل کا ہونا اور اجنبی لوگوں کے سامنے زبان کا لڑکھڑا جانا۔ آخر یہ سب کیوں ہوتا ہے۔ جو نوجوان اُس دن منبر پر جم گیا تھا، اُس نے بڑے ہو کر یہی راز کھولا "اگر ایک خیال آپ کو جکڑ سکتا ہے، تو ایک خیال آپ کو آزاد بھی کر سکتا ہے" اور یہی راز اس مضمون کی اصل کہانی ہے۔

بعد میں پتا چلا کہ باپ نے اُس نے نوجوان سے بس اِتنا کہا تھا کہ یہ سب تو بھوسے کے پُتلے ہیں، اِنہیں کاٹ ڈالو۔ نہ سامنے بیٹھے لوگ بدلے، نہ دربار بدلا، نہ ملکہ بدلی۔ بدلا تو صرف وہ ایک جملہ جو نوجوان نے اپنے آپ کو سنایا اور اُسی لمحے اُس کے اندر کا ڈر بھک سے اُڑ گیا۔ یہی وہ راز تھا جس نے اُس کی........

© Daily Urdu (Blogs)