Waiz Jisne Patang Urai, Magar Apni Marzi Se Nahi

ایک واعظ کو رفتہ رفتہ یہ احساس ہونے لگا کہ اس کا خطبہ لوگوں پر وہ اثرات مرتب نہیں کر پارہا جس کی اسے توقع تھی۔ کلیسا میں لوگ عبادت کے بعد نہ تو اس کے پاس آ کر کھڑے ہوتے، نہ اس کی تعریف میں مبالغہ آمیز جملے اچھالتے اور نہ ہی اسے یہ جتاتے کہ اس کی ذات اور وعظ میں کوئی خاص کشش ہے۔ واعظ کو گمان ہوا کہ اس کی غیر موجودگی میں لوگ اس پر خاموشی سے انگلی اٹھاتے ہیں۔

اسے پورا یقین ہو چلا تھا کہ اس کے وعظ میں کہیں نہ کہیں بنیادی نقص موجود ہے۔

حالانکہ ایک مدت سے وہ پوری نیک نیتی سے خطبہ دے رہا تھا۔ وہ بات صاف، سیدھی اور بغیر کسی الجھاؤ کے کہتا، بین الاقوامی حوالوں سے پرہیز کرتا، مثالوں میں انہی تاریخی شخصیات کا ذکر لاتا جو مقامی ہوں یا سامعین کے لیے مانوس ہوں، لاطینی اور فلسفیانہ الفاظ کے بجائے قدیم، مختصر اور ٹھوس انگریزی لفظ استعمال کرتا اور فکری سطح کو جان بوجھ کر اسی حد تک محدود رکھتا جہاں تک وہ لوگ پہنچ سکتے تھے جو چندہ دے کر اس کی تنخواہ ادا کرتے تھے۔

لیکن کلیسا کے بنچوں پر بیٹھے لوگ مطمئن نہ تھے۔ وہ اس کی ہر بات سمجھ لیتے تھے اور یہی بات ان کے لیے ناقابلِ برداشت تھی۔ انہیں یوں لگنے لگا تھا کہ واعظ حد سے زیادہ عام، حد سے زیادہ قابلِ فہم ہے۔

چنانچہ اس نے صورتِ حال پر گہرا غور کیا اور ایک سادہ مگر مؤثر نتیجے پر پہنچا۔

اگر اسے لوگوں کو متاثر کرنا ہے، اگر اسے خاص، نرالا اور بڑا مبلغ بننا ہے، تو اسے خطبے میں کچھ ایسی چیز شامل کرنی ہوگی جو سمجھ میں نہ آئے، مگر سننے میں بہت وزنی لگے۔

اس نے اس مقصد کے لیے خوب دل کھول کر تیاری کی۔

اگلے اتوار کی صبح وہ وعظ دینے کے لیے منبر پر چڑھا، سر پیر کے بغیر ایک ایسا متن پڑھا جس کا نہ آغاز معنی خیز تھا نہ........

© Daily Urdu (Blogs)