Sach Se Gurez |
انسانی ذہن کے بارے میں ایک دیرینہ خوش فہمی یہ رہی ہے کہ وہ بنیادی طور پر سچ، انصاف اور حقیقت کی جستجو کے لیے بنا ہے۔ مگر نفسیات، سماجی علوم اور فلسفۂ علم کی جدید بحثیں بتاتی ہیں کہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ انسانی ذہن اپنی ساخت اور ارتقائی پس منظر کے اعتبار سے سب سے پہلے بقا، تعلق اور سماجی قبولیت کا خواہاں ہے، سچائی کی تلاش اکثر اس کے بعد آتی ہے۔ اسی لیے بیشتر مواقع پر انسان تحقیق اور شواہد کی بنیاد پر موقف اختیار نہیں کرتا بلکہ اُن بیانیوں اور تعبیرات کو اختیار کر لیتا ہے جو پہلے سے سماج میں رائج ہوں اور جنہیں قبول کرنے سے اس کی سماجی حیثیت اور تعلقات متاثر نہ ہوں۔
یہ مسئلہ محض لاعلمی یا تعلیم کی کمی کا نہیں بلکہ ذہنی ساخت کا بھی ہے۔ انسانی دماغ میں موجود ادراکی تعصبات (cognitive biases) اکثر فرد کو اس طرف مائل کرتے........