Munh Wal Kaabe Shareef |
قریباً تیرہ برس گزر گئے لیکن یہ واقعہ دماغ کے کینوس پہ آج بھی اپنی جزیات کے ساتھ نقش ہے۔ ایسے لگتا ہے ابھی کل ہی کی تو بات ہے جب اس افسوس ناک سانحے سے گزرنا پڑا۔ بدیسی زباں انگریزی میں کہاوت ہے کہ پہننے والا ہی جانتا ہے کہ جوتا کہاں کاٹتا ہے۔ اسی طرح درد سےگزرنے والا ہی درد کی شدت، اذیت، تکلیف اور اضطراب کا اندازہ لگا سکتا ہے اور وہ بھی صرف اندازہ ہی لگا سکتا ہے، درد کی کیفیت بیان کرنا اس کے بس میں بھی نہیں ہوتا۔ ایک مہربان کی آخری رسومات کا مرحلہ درپیش تھا۔ چند رشتے دار "بہت ہی بیرون ملک" سے آنے تھے تو جسد خاکی کو سردخانے میں رکھوا دیا گیا۔
دو دن کے بعد کفن دفن کی کاروائی کا آغاز ہوا۔ تمام رسومات نپٹا لی گئیں تو سب احباب گھر کے پیچھے چمن (لان) میں اکٹھا ہونا شروع ہوئے کہ نمازِ جنازہ کا اہتمام وہیں پہ کیا گیا تھا۔ نماز کے لئے صفوں کی ترتیب بنائی گئی اور امام صاحب کے لئے مصلہ بچھا دیا گیا۔ مصلے کی درست سمت کے لئے موبائل سے بیت اللہ کی سمت معلوم کرکے تسلی کر لی گئی۔ جیسا کہ رواج ہے مولوی صاحب نے نماز سے قبل نماز کاطریقہ اور ساری عربی عبارات بھی دہرا دیں۔ نیت کرنے کے زمرے میں مولوی صاحب نے با آواز بلند فرمایا کہ سب احباب نیت باندھ لیں اور خود اونچی آواز میں نیت کے الفاظ دہرائے:
چار تکبیر فرض کفایہ نمازِ جنازہ
ثناء واسطے اللہ دے (حمد و ثناء اللہ کے لئے)
درود واسطے نبی دے (درود نبی محترم کے لئے)
دعا واسطے ایس میت دے (دعا مغفرت اس میت کے لئے)
منہ ول کعبے شریف۔۔ اللہ اکبر (منہ کعبہ شریف کی طرف، اللہ اکبر)
نمازِ جنازہ پڑھائے جانے سے، جنازہ اٹھانے تک اور پھر قبر کی گہرائی میں میت رکھنے تک ایک ہی صدا سنائی پڑتی رہی۔ چارپائی کعبے رخ کردو، منہ قبلے کی طرف موڑ دو، قبلے کی طرف سے شروع کرو۔۔ قبر پہ مٹی برابر کرتے ہوئے خیال آیا کہ اب جب سب ٹھاٹھ پڑے کا پڑا ہی رہ گیا ہے اور بنجارے بھی بس اب جایا ہی چاہتے ہیں تو کعبہ رخ کی اہمیت کیسے زور پکڑ گئی ہے۔ حالانکہ کعبے کی سمت (خلوصِ نیت) اور قبلہ رخ (رب کی بندگی میں) ہونا تو زندگی میں ہی سب سے ضروری اور اہم تھا۔
جواں عمری میں اپنے زورِ بازو کو زورِ رستم اور پیرانہ عمری میں خود کو عقلِ کُل سمجھ لینے والا انسان دراصل ایک ایسی خام خیالی میں مبتلا رہتا ہے جہاں وہ اپنی حقیقت کو بھلا بیٹھتا ہے۔ وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اس کی طاقت، اس کی رائے اور اس کا تجربہ اور مشاہدہ ہی سب کچھ ہے، حالانکہ یہ سب عارضی سہارے ہیں۔ وقت کا ایک جھونکا آتا ہے اور یہی طاقت کمزوری میں، یہی یقین تذبذب میں اور یہی غرور آخر میں خاموشی میں بدل جاتا ہے۔ تب سمجھ آتی ہے کہ اصل قوت نہ بازو میں تھی، نہ عقل کے گھمنڈ میں، بلکہ اصل طاقت اس ذات کے ساتھ تعلق میں تھی جسے ہم نے نظر انداز کئے رکھا۔
زندگی بھر ہم سمتوں کا تعین اپنے مفاد، اپنی خواہشات اور اپنی انا کے مطابق کرتے رہتے ہیں، مگر اصل قبلہ تو وہ تھا جو ہر لمحہ ہمیں پکارتا تھا۔ ہم نے کاروبار، تعلقات اور دنیاوی کامیابیوں کو اپنی منزل سمجھ لیا، جبکہ وہ سب راستے تھے، راستے کے نشان تو نشانِ منزل تھے وہ ہر گز بھی منزل نہ تھے۔ اب جب سفر ختم ہونے کو آیا تو ہر طرف سے یہی صدا آئی کہ رخ درست کرو، سمت ٹھیک کرو۔ افسوس کہ وہ رخ جسے زندگی بھر درست رہنا تھا، وہ اب آخری لمحوں میں یاد آیا۔
میاں محمد بخش صاحب نے خوب فرمایا کہ:
بس کر کیا میاں محمد بخشا، موڑ قلم دا گھوڑا ساری عمرے دکھ نہیں مُکنے، ورقہ رہ گیا ای تھوڑا
یہی انسان کی سب سے بڑی بھول ہے کہ وہ وقت کو ہمیشہ اپنے ساتھ سمجھتا ہے، حالانکہ وقت کبھی کسی کا نہیں ہوتا۔ جب سب کچھ پیچھے رہ جاتا ہے اور انسان تنہا اپنے انجام کی طرف بڑھتا ہے تو نہ زورِ رستم کام آتا ہے، نہ عقلِ کُل کا دعویٰ۔ تب صرف ایک چیز باقی رہ جاتی ہے وہ نیت، وہ اخلاص اور وہ سمت جو اس نے اپنے رب کی طرف اختیار کی تھی۔ اگر وہ درست ہو تو سب کچھ سنور جاتا ہے اور اگر وہی بگڑی ہو تو پھر ساری زندگی کی کمائی بھی بے معنی ہو جاتی ہے۔