Saalgirah Mubarak Ammi

ایک عجیب سی مہک کمرے میں پھیلی ہے، وہ چاہتی ہے کہ اس مہک کو اؤڑھ کر کچھ دیر کے لیے آنکھیں موند لے اور کچھ بھی یاد نہ رہے۔

دوسرے ہی پل دل ہمکنے لگتا ہے کہ اس مہک کے کندھے پہ سر رکھ کر وہ سب آنسو بہا دے جن کی تپش سے جسم سلگتا ہے۔

یہ مہک، یہ مانوس مہک، اندر بس جانے والی، تھپکی دے کر سلانے والی، غم جاں کو بہلانے والی، انوکھی، یکتا، قیمتی اور نادر، جس سے ایک بار ہاتھ چھوٹ جائے تو زندگی کا میلہ صحرا کی تپتی دھوپ بن جائے، حلق میں کانٹے اگ آئیں اور پاؤں چھالوں سے بھرتے جائیں مگر رکنا ممکن نہ ہو۔

یہ کھوئی ہوئی مہک کہاں سے آتی ہے، جی کو نم کرتی ہے، سسکنے پہ مجبور کرتی ہے، نیند آنکھوں میں اترتی ہی نہیں۔

کیا ہوا ہے؟ اس کی غیر موجودگی میں گھر میں کچھ نہ کچھ تو ضرور ہوا ہے لیکن کوئی بدلاؤ تو نظر آتا نہیں۔۔ ہر چیز اپنی جگہ پہ موجود، وہیں جہاں وہ رکھ کے گئی تھی۔

گھر اور ان میں رکھی چیزیں بھی عجیب ہوتی ہیں۔ مکینوں کو قید کرتے ہوئے ان میں بسیرا کر لیتی ہیں۔ کچھ دن کی بھی جدائی ہو تو قطرہ قطرہ مرنے لگتی ہیں، نیم وا آنکھوں سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے اس امید میں رہتی ہیں کہ کوئی آئے اور ان میں پھر سے روح پھونک دے۔

مکینوں کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے، ماہ وسال اکھٹے گزارتے ہوئے انہیں بھی وہ اپنے جیسی لگتی ہیں، سانس لیتی، جیتی جاگتی، ہنستی، باتیں کرتی۔

کچھ بھی نہیں بدلا۔ ایک طرف کتابوں کی الماری منتظر ہے کہ وہ نئی کتابوں کو اس سے ملوائے۔ سائیڈ ٹیبل پہ سب پیاروں کی تصویریں اور لیمپ، جب سے روشن کیا ہے، پرسکون نظر آتا ہے۔ دوسری طرف رکھا صوفہ اس سے کچھ پوچھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

جیسے کوئی مانوس اجنبی یہاں سے ابھی ابھی گزرا ہو۔

اس کی نظر کنسول کے نیچے پڑے کالے بیگ پہ رک جاتی ہے۔ چمڑے کا بنا ہوا، حجم بس اتنا کہ کچھ جوڑے کپڑوں کے آ جائیں۔

یاد نہیں پڑتا کہ اس کے پاس ایسا کوئی بیگ رہا ہو۔ یہ، یہ، کہاں سے آیا؟ کس نے یہاں رکھا؟

بیگ آنکھیں بند کیے بیٹھا ہے جیسے ایک طویل مسافت کے بعد سستا رہا ہو۔

وہ اٹھ کر بیگ کے قریب جاتی ہے۔ مہک تیز ہو رہی ہے۔ کیا ہے اسمیں؟ کس کا سامان ہے یہ؟

وہ بیگ کی زپ کھولنے کے لیے ہاتھ بڑھاتی ہے، ہش، آہستہ، دھیرج، احتیاط، محبت اور زندگی کے........

© Daily Urdu (Blogs)