Kya Sherlock Holmes Waqai Farzi Tha?

کیا شرلاک ہومز واقعی فرضی تھا؟

شرلاک ہومز سے بچپن ہی میں شناسائی ہوئی اور ہماری طبعیت سے میل کھانے کے باعث وہ ہمارا پسندیدہ کردار بن گیا۔ جب وہ محدب عدسہ تھامے، الجھے ہوئے جرائم کی گتھیاں سلجھاتے ہوئے پائپ کے کش لگاتا، ڈاکٹر واٹسن کو کچھ ادھوری باتیں جاننے کی ذمہ داری سونپتا، اشاروں کنایوں میں باتیں کرتا، تو ساتھ میں ہماری جان پہ بھی بنی ہوتی۔

شرلاک ہومز کے ساتھ ساتھ ہمارے دماغ میں بھی کھلبلی مچی ہوتی، کون ہے آخر مجرم؟ کیسے ہوا یہ قتل؟

شرلاک ہومز کی کہانیاں پڑھنے کے بعد یہ نقصان ہوا کہ ہماری پہلے سے متجسس طبعیت تکلیف دہ حد تک سوالیہ نشان میں ڈھل گئی۔ آپا کی کچھ سہیلیوں نے زچ ہو کے تجویز کیا کہ ہمارا نام سوالوں کی پڑیا ہونا چاہئے۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ ہماری سرگرمیاں پراسرار ہونے لگیں۔ ہمارے ایک بھائی اپنی ایک الماری ہمیشہ مقفل رکھتے اور چابی کہیں چھپا دیتے۔ اب چابی کی تلاش میں ہم سراغ رسانی کی اپنی ساری صلاحیتیں بروئے کار لاتے۔ قالین کے کونے، صوفوں کے پیچھے، پلنگ کے نیچے، کتابوں کے درمیان، جیکٹ کی جیبیں اور آخرکار کامیابی ہمارے قدم چومتی۔

اب الماری کھولنے کا مرحلہ درپیش ہوتا۔ تمام احتیاطی تراکیب بروئے کار لا کے ہر ڈائری اور ہر لفافے کی ترتیب کا لحاظ رکھتے ہوئے اسے نکال کے پڑھا جاتا اور پھر اسی لحاظ سے واپس جمایا جاتا۔ الماری بند کی جاتی، چابی خفیہ جگہ پہ واپس رکھ دی جاتی اور ہمیں اپنا آپ شرلاک ہومز محسوس ہونے........

© Daily Urdu (Blogs)