Kyun e Kahan Tak |
کبھی کبھی قرآن کی چند آیات انسان کے اندر ایک پوری دنیا کھول دیتی ہیں۔ میرے لیے سورۃ البقرۃ کی آیات 155 سے 158 ایسی ہی آیات ہیں۔ اللہ تعالیٰ پہلے فرماتے ہیں: وَلَنَبُلُوَنَّكُم بِشَيُءٍ مِّنَ الُخَوُفِ وَالُجُوعِ وَنَقُصٍ مِّنَ الُأَمُوَالِ وَالُأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ، خوف۔ بھوک۔ نقصانِ مال۔ نقصانِ جان۔ نقصانِ ثمرات۔
پھر اللہ صبر کرنے والوں کے بارے میں فرماتے ہیں: أُولَٰئِكَ عَلَيُهِمُ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمُ وَرَحُمَةٌ اور اس کے فوراً بعد: إِنَّ الصَّفَا وَالُمَرُوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ، پہلی نظر میں یہ ربط عجیب لگتا ہے۔ صبر کی بات کے فوراً بعد صفا اور مروہ کیوں؟
لیکن آج مجھے محسوس ہوا کہ شاید اللہ صبر کی صرف تعریف نہیں کر رہے۔۔ وہ صبر کی ایک زندہ تصویر دکھا رہے ہیں۔ وہ تصویر حضرت حاجرہؑ ہیں۔ کیونکہ سورۃ البقرۃ کی ان آیات میں جن آزمائشوں کا ذکر ہے، حضرت ہاجرہؑ نے ان سب کو جیا تھا۔
خوف؟ ایک سنسان وادی میں تنہا چھوڑ دیا جانا۔ بھوک اور پیاس؟ اپنے شیرخوار بچے کو تڑپتے دیکھنا۔ نقصان؟ ہر لمحہ یہ اندیشہ کہ شاید اب زندگی باقی نہ رہے۔ لیکن یہاں ایک سوال حیرت انگیز ہے کہ حضرت ہاجرہؑ نے حضرت ابراہیمؑ سے "کیوں" نہیں پوچھا؟
ذرا تصور کریں: آپ کا شوہر آپ کو اور آپ کے بچے کو ایک بے آب و گیاہ صحرا میں چھوڑ کر واپس جا رہا ہے۔ وہ پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھتا۔ آپ آواز دیتی ہیں۔ وہ خاموش رہتا ہے۔
پھر آپؑ صرف ایک سوال پوچھتی ہیں: "کیا........