Jaise Awam, Waise Hukumran
جیسے عوام، ویسے حکمران
خلیل جبران نے اپنی مشہور نظم Pity the Nation میں ایک ایسی قوم پر ترس کھایا تھا جو ہر نئے حکمران کا استقبال ڈھول، نقاروں اور امیدوں کے ہاروں سے کرتی ہے اور رخصت کرتے وقت اسے گالیوں، لعنتوں اور ناکامیوں کے تمغوں سے نوازتی ہے۔ اگر جبران آج زندہ ہوتا تو شاید اپنی نظم کا نیا ورژن لکھتا اور اس کے اوپر پاکستان کا نقشہ بنا دیتا۔
یہاں سیاسی جماعتیں نظریات سے کم اور خاندانی کاروباروں سے زیادہ مشابہ ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کسی کے پاس شوگر مل ہے، کسی کے پاس ہاؤسنگ سوسائٹی، کسی کے پاس فاؤنڈری اور کسی کے پاس انقلاب کا ٹھیکہ۔ اس پر سیاست کا کمال یہ ہے کہ ہر جماعت دوسری کو مافیا قرار دیتی ہے جبکہ اپنے مافیا کو "کارکن" کہتی ہے۔ ہر لیڈر مخالفین کے عسکری جتھوں پر ماتم کرتا ہے مگر اپنے دستوں کو جمہوریت کا حسن قرار دیتا ہے۔ گویا جنگل میں ہر بھیڑیا دوسرے بھیڑیے کو درندہ ثابت کرنے میں مصروف ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کا معاملہ بھی دلچسپ ہے۔ دنیا میں پولیس چور پکڑتی ہے ہمارے ہاں بعض اوقات چور اور پولیس مل کر عوام کو پکڑ لیتے ہیں۔ جعلی مقابلوں، ماورائے عدالت کارروائیوں اور طاقت کے مظاہروں نے عوام کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ اگر کوئی........
