Hum Sub Rewar Ka Hissa Hain

ہم سب ریوڑ کا حصہ ہیں

کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم سب ریوڑ کا حصہ ہیں۔ چل تو رہے ہیں، مگر یہ جانے بغیر کہ کہاں جانا ہے۔ راستہ اپنا نہیں، سمت اپنی نہیں اور سوچ بھی اپنی نہیں۔ بس ایک شور ہے، ایک ہجوم ہے اور اس ہجوم کے اندر ایک عجیب سا قرار بھی ہے۔ وہ قرار جو اپنی ذمہ داریوں سے فرار میں ملتا ہے۔

یہ وہی مقام ہے جہاں انسان اپنے اندر جھانکنا چھوڑ دیتا ہے اور دوسروں میں جھانکنا شروع کر دیتا ہے۔ جہاں دلیل کی جگہ آواز اونچی ہونے لگتی ہے اور جہاں برداشت ایک ناپید شے ٹھہرتی ہے۔ صبح سے شام تک روزگار کی الجھنوں میں الجھا انسان، رات کو سوشل میڈیا کی پناہ میں آ جاتا ہے۔ وہاں وہ تھکن نہیں اتارتا، بلکہ اپنے اندر کی کڑواہٹ انڈیلتا ہے۔ دو چار جملے کسی پر اچھال دیے، کچھ طنز کے تیر چلا دیے، چند ویڈیوز پر ہنس لیا اور یوں اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس نے دن کا حساب چکا دیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ صرف وقت کا قرض بڑھا رہا ہوتا ہے۔ ہر نیا دن ایک نئے ایشو کے ساتھ طلوع ہوتا ہے اور ہر رات اسی ایشو کے شور میں ڈوب کر ختم ہو جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا چکر ہے جس میں نہ سوچ بدلتی ہے، نہ زندگی۔ بس الفاظ بدلتے ہیں، چہرے بدلتے ہیں اور موضوعات بدل جاتے ہیں مگر ذہن وہی رہتا ہے، بند، تھکا ہوا اور........

© Daily Urdu (Blogs)