Burhape Ki Tanhai Ka Noha |
بڑھاپے کی تنہائی کا نوحہ
پاکستانی معاشرہ، جو کبھی اپنی مضبوط خاندانی اقدار اور بزرگوں کے سائے میں پروان چڑھنے والی تہذیب کے حوالے سے ایک مثالی شناخت رکھتا تھا، آج اپنی ہی تصویر بدلتا دیکھ رہا ہے۔ آج ہمارے سماجی منظر نامے پر ایک ایسا سوالیہ نشان ابھرا ہے جس کا جواب ڈھونڈتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے: "بڑھاپے میں باپ کا اپنی ہی دہلیز پر تنہا رہ جانا"۔ یہ محض ایک منظر نہیں، بلکہ ہمارے اخلاقی ڈھانچے کے گرتے ہوئے ستونوں کا ماتم ہے۔
اگر ہم ایک پاکستانی باپ کی زندگی کا مشاہدہ کریں، تو وہ محنت اور مشقت کی ایک ایسی داستان ہے جس کا کوئی دوسرا بدل نہیں۔ وہ تپتی دھوپ میں پسینہ بہاتا ہے، سرد راتوں میں سکون قربان کرتا ہے اور اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر اولاد کے کھلونے اور کتابیں خریدتا ہے۔ وہ اپنی جوانی کی طاقت معاش کی چکی میں اس لیے پیس دیتا ہے تاکہ اس کے بچوں کے ہاتھ نرم رہیں اور ان کے سر پر چھت ہو۔ اس کی پھٹی ہوئی ایڑیاں اور کام سے گھسے ہوئے ہاتھ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اس نے اپنی ہڈیاں جلا کر اولاد کے مستقبل کا چراغ روشن کیا ہے۔ مگر........