Wohi Roshani, Wohi Musafir

برف پوش چوٹیوں کے سائے تلے آباد گلگت بلتستان کا سیاسی منظرنامہ اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے جہاں انتخابی بگل بجتے ہی تمام سیاسی جماعتیں اپنے اپنے منشور اور دعووں کے ساتھ میدان میں اتر چکی ہیں۔ ماضی قریب پر نظر دوڑائیں تو یہاں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم تھی جبکہ اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی اس خطے کی باگ ڈور سنبھالنے کا موقع ملا ان تمام ادوار میں سڑکوں کے جال بچھانے، صحت و تعلیم کے چند منصوبوں اور انتظامی اصلاحات کے دعوے تو بہت کیے گئے مگر زمینی حقائق آج بھی عوامی محرومیوں کا نوحہ پڑھتے نظر آتے ہیں۔ اگرچہ تعمیر و ترقی کے ترازو میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے ادوار کو انفراسٹرکچر اور آئینی پیکج دینے کے حوالے سے قدرے نمایاں مانا جاتا ہے لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے روایتی سیاسی نظام کی تمام تر خامیاں اس پاکیزہ خطے پر بھی بری طرح اثر انداز رہی ہیں۔

ہمارا سیاسی ڈھانچہ، اقربا پروری، کرپشن، جھوٹے وعدے اور سیاسی کارکنان نظریات کی بجائے محض وقتی مفادات اور وفاداریاں بدلنے کے عارضے میں مبتلا ہیں جہاں الیکشن تو باقاعدگی سے ہوتے ہیں مگر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ کر عوامی فلاح کے بجائے ذاتی تجوریاں بھرنے اور مقتدر حلقوں کو خوش رکھنے کی دوڑ شروع ہو جاتی ہے۔ ووٹر کو محض ایک مہر تک محدود کر دینے والے اس فرسودہ انتخابی نظام اور مرکز کی اندھی تقلید نے گلگت بلتستان کے غیور عوام کو ان کے بنیادی آئینی حقوق اور حقیقی پائیدار ترقی سے محروم رکھا ہے جس کا ازالہ اب روایتی نعروں سے نہیں بلکہ ایک مخلص........

© Daily Urdu (Blogs)