Behr e Ahmar Naya Aalmi Bohran |
بحر احمر نیا عالمی بحران
بحیرہ احمر اور باب المندب کی موجوں پر تیرتی بارود کی بو نے یمن کے دیرینہ تنازع کو عالمی جیو پولیٹکس کے ایک انتہائی حساس اور باریک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے ان بڑھتے ہوئے بحری خطرات اور سٹریٹیجک ہلچل کے درمیان سعودی عرب نہایت تدبر اور حکمتِ عملی کے ساتھ توازن برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ایک طرف جہاں ریاض اپنی سرحدوں اور تجارتی راستوں کے دفاع کے لیے مستعد ہے وہیں یمن میں پائیدار اور مستقل امن کے قیام کی کوششوں کو کسی صورت اثر انداز نہیں ہونے دینا چاہتا۔ سعودی سفارت کاری اس وقت ایک نازک ترین موڑ سے گزر رہی ہے جہاں وہ عسکری اشتعال انگیزی سے بچتے ہوئے پرامن مذاکرات کے راستے کو ترجیح دے رہی ہے تاکہ خطہ کسی بڑی جنگ کی لپیٹ میں نہ آ جائے۔
اگر خدانخواستہ باب المندب کی اس شاہراہِ حیات پر حوثیوں کا مکمل تسلط قائم ہو جاتا ہے تو عالمی اقتصادیات پر اس کے نتائج ایک تباہ کن زلزلے سے کم نہیں ہوں گے۔ باب المندب دنیا میں خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی نقل و حمل کی سب سے اہم رگِ جاں ہے اس کی ناکہ بندی کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ سے مغرب کو روانہ ہونے والے تیل کے ٹینکرز کو برِاعظم افریقہ کے طویل، پرخطر اور انتہائی مہنگے راس امید کا چکر کاٹنا پڑے گا۔ اس مسافت سے نہ صرف سفر کا دورانیہ ہفتوں بڑھ جائے گا بلکہ جہاز رانی کے اخراجات، بیمہ کی شرح اور ایندھن کی لاگت میں ایسا ہولناک اضافہ ہوگا جو بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں........