Baqa e Insani Ka Zamin |
خطے کے افق پر ابھرتی ہوئی یہ نئی صبح تاریخ کے دھارے کو بدلنے کے لیے تیار ہے جہاں اسلام آباد کی سرزمین ایک بار پھر امن کے پیامبر کے طور پر سامنے آئی ہے۔ حکومت پاکستان نے غیر معمولی سفارتی مہارت اور سٹرٹیجک بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی کے اس دوسرے مرحلے کو ممکن بنایا ہے جس کی بنیاد رکھنے میں وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کی شبانہ روز کاوشیں ایک کلیدی کردار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان مذاکرات کی کامیابی درحقیقت پاکستان کی اس متوازن خارجہ پالیسی کی فتح ہے جو خطے میں کشیدگی کے خاتمے کو اپنی اولین ترجیح سمجھتا ہے۔
ایران کی جانب سے خطے میں مداخلت کے خاتمے اور جوہری پروگرام پر سخت گیر موقف کے باوجود مذاکرات کاروں نے انتہائی تدبر سے کام لیتے ہوئے کئی اہم نکات پر اتفاق رائے پیدا کیا ہے جہاں ایران کی اپنی خود مختاری کے تحفظ اور معاشی پابندیوں کے خاتمے سے جڑی شرائط کو وسیع تر انسانی بنیادوں پر تسلیم کر لیا گیا ہے وہیں کچھ سٹرٹیجک تحفظات جن پر عالمی برادری کو خدشات تھے انہیں مذاکرات کی میز پر حل طلب رکھا گیا ہے۔
ان حالات میں حماس کا مستقبل ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے اب عسکریت پسندی کی جگہ سیاسی دھارے میں شامل ہو کر ایک نئی حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ یہ سمجھوتہ محض ایک جنگ بندی نہیں بلکہ ایک نئی عالمی ترتیب کا نقطہ آغاز ہے جس میں پاکستان کا کردار ایک ثالث اور امن کے........