Aman Ke Safeer Ka Aalmi Urooj
امن کے سفیر کا عالمی عروج
اسلام آباد کے پرسکون اور دلکش ماحول میں امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کی میزبانی کرکے پاکستان نے عالمی سفارت کاری کے افق پر ایک ایسا درخشندہ باب رقم کر دیا ہے جس نے پوری دنیا کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔ آج عالمی برادری نہ صرف پاکستان کی بصیرت انگیز قیادت کی معترف ہے بلکہ خطے میں قیام امن کے لیے اس کے مخلصانہ اور مثبت کردار کو ایک بڑی طاقت کے ظہور کے طور پر تسلیم کر رہی ہے۔
کرہ ارض کے نقشے پر ابھرا ہوا یہ نیا پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت اور غیر معمولی سفارتی مہارت کے بل بوتے پر عالمی طاقتوں کے درمیان ایک مضبوط پل کا درجہ اختیار کر چکا ہے جس کی بدولت دنیا بھر میں پاکستان کی تعریفوں کے گونجتے ہوئے ترانے اس حقیقت کی گواہی دے رہے ہیں کہ اب دنیا پاکستان کی سحر انگیز سفارت کاری کی گرویدہ ہو چکی ہے۔ مستقبل کے حوالے سے کی جانے والی پیشین گوئیاں اس روشن حقیقت کی نوید سنا رہی ہیں کہ پاکستان آنے والے وقتوں میں نہ صرف ایشیا بلکہ پوری دنیا کی سیاست اور معیشت کا ایک کلیدی مرکز بن کر ابھرے گا جہاں اس کا کردار ایک منصفانہ اور پائیدار عالمی نظام کی تشکیل میں سب سے اہم ہوگا۔ پاکستان کی اس بے مثال کامیابی نے اسے ایک ایسی عظیم قوت کے طور پر منوا لیا ہے جس کے بغیر عالمی امن کا خواب ادھورا ہے اور آج ہر سو پاکستان کی عظمت کے چرچے اس کی عالمی برتری کا واضح اعلان ہیں۔
اسلام آباد کے اس تاریخی امن معرکے میں ایران نے اپنی خود مختاری اور معاشی بقا کو مقدم رکھتے ہوئے کڑی شرائط پیش کیں جن میں خاص طور پر عالمی پابندیوں کا مکمل خاتمہ اور منجمد اثاثوں کی فوری واپسی کے ساتھ ساتھ سکیورٹی کی ٹھوس ضمانتیں سرفہرست تھیں۔ جواب میں امریکہ نے معاشی پابندیوں میں بتدریج نرمی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تجارتی رعایتوں پر آمادگی تو ظاہر کی مگر حساس جوہری پروگرام کی نگرانی اور بیلسٹک میزائلوں کی حد بندی جیسے معاملات پر بات آ کر رک گئی جہاں دونوں فریقین کے مفادات آپس میں ٹکرائے۔
ایران کو موجودہ عالمی تناظر میں اپنے موقف پر نظرثانی کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے قومی وقار پر سمجھوتہ کیے بغیر ایسی لچک پیدا کرے جس سے خطے میں اس کا اثر و رسوخ بھی قائم رہے اور عوام کو معاشی خوشحالی کا ثمر بھی مل سکے۔ تہران اگر شفاف بین الاقوامی معائنہ کاری کو قبول کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو علاقائی تعاون کے فریم ورک میں ڈھال لے تو وہ بغیر کسی نقصان کے عالمی تنہائی سے نکل سکتا ہے۔ اس جنگ بندی کے معاہدے کا ہونا خطے کے لیے اس قدر ضروری ہے جیسے کسی پیاسے صحرا کے لیے باران رحمت کیونکہ اس امن سے نہ صرف مشرق وسطیٰ میں دہائیوں سے جاری کشیدگی کا خاتمہ ہوگا بلکہ توانائی کی عالمی منڈیوں میں استحکام اور معاشی راہداریوں کی بحالی سے کروڑوں انسانوں کا مستقبل سنور جائے گا۔ پاکستان کی یہ مخلصانہ کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ خلوص نیت سے کی گئی سفارت کاری ناممکن کو ممکن بنا سکتی ہے اور یہ معاہدہ ایشیا کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے جس کی تکمیل ہی میں سب کی بقا پوشیدہ ہے۔
اگر یہ مذاکرات ناکامی کی نذر ہوتے ہیں تو خطے میں بارود کی ایسی ہولناک بو پھیلے گی جو امریکہ اسرائیل اور ایران سمیت پوری دنیا کو اپنے حصار میں لے لے گی جس کے نتیجے میں کھربوں ڈالر کا معاشی خسارہ اور لاکھوں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ایک ایسی حقیقت بن جائے گا جس سے فرار ممکن نہیں ہوگا۔ اگر ایران بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن کی شرائط تسلیم کر لیتا ہے تو چند ہی برسوں میں اس کی معیشت کی بند گلی کھل جائے گی اور منجمد اثاثوں کی بحالی و عالمی منڈی تک رسائی تہران کو مشرق وسطیٰ کا معاشی ٹائیگر بنا دے گی لیکن اس کے برعکس ہٹ دھرمی کی صورت میں ایسی تباہی کا خدشہ ہے جو ایران کے بنیادی ڈھانچے کو دہائیوں پیچھے دھکیل دے گی۔
اس تمام منظر نامے میں اسرائیل ایک ایسے شاطر کھلاڑی کا کردار ادا کر رہا ہے جو اپنے وجود کو برتر رکھنے کے لیے امن کے ہر پودے کو جڑ سے اکھاڑنے پر تلا ہوا ہے کیونکہ جنگ کی آگ جتنا بھڑکے گی اسرائیل کو اتنا ہی موقع ملے گا کہ وہ عالمی توجہ اپنے مظالم سے ہٹا کر تہران کی طرف موڑ دے اور خطے کی بڑی مسلم طاقتوں کو ایک دوسرے سے لڑا کر کمزور کر سکے۔ شیطانی طاقتیں اس وقت امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ خلیجی ممالک میں جاری خونریزی ان کے اسلحے کی تجارت اور سامراجی ایجنڈے کو آکسیجن فراہم کرتی ہے۔ اگر یہ جنگ چھڑ گئی تو خلیج کی بلند و بالا عمارتیں اور معاشی شہکار ملبے کے ڈھیر میں بدل جائیں گے اور تیل کی ترسیل رکنے سے پوری عالمی معیشت زمین بوس ہو جائے گی لہٰذا یہ وقت کسی ضد کا نہیں بلکہ اس تاریخی تباہی کو روکنے کا ہے جو پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لینے کے لیے پر تول رہی ہے۔
اگرچہ امن کی اس طویل مسافت میں فی الوقت کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی ہے مگر یہ سکوت ہرگز منزل سے محرومی کا اعلان نہیں بلکہ ایک نئی اور بھرپور شروعات کا پیش خیمہ ہے۔ عالمی برادری کو یہ قوی امید رکھنی چاہیے کہ مذاکرات کا یہ سلسلہ ابھی صرف تھما ہے ختم نہیں ہوا اور آنے والی اگلی نشست میں وہ تمام گرہیں کھل جائیں گی جو اب تک اس راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ پاکستان کے سپہ سالار وزیراعظم اور وزیر خارجہ کی قیادت میں پوری ریاست جس خلوص اور جانفشانی سے دن رات ایک کر رہی ہے وہ اس بات کی ضمانت ہے کہ بہت جلد ایک ایسا مستقل امن معاہدہ طے پا جائے گا جو خطے کی تقدیر بدل دے گا۔
پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے اپنی بہترین انتظامی صلاحیتوں اور سفارتی بصیرت سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ عالمی تنازعات کو حل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس امن مشن کی کامیابی کے بعد پاکستان بلاشبہ ایشیا کی ایک ناقابل تسخیر اور عظیم طاقت بن کر ابھر چکا ہے جس کی آواز کو اب پوری دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب اسلام آباد کی یہ کوششیں رنگ لائیں گی اور امن کا سورج ایک ایسی دائمی روشنی کے ساتھ طلوع ہوگا جس کے بعد جنگ کے سیاہ بادل ہمیشہ کے لیے چھٹ جائیں گے اور انسانیت سکھ کا سانس لے گی۔
