Abu, Kya Main Mehfooz Hoon?
ابو، کیا میں محفوظ ہوں؟
میرا ایک دوست بتا رہا تھا کہ کچھ دن پہلے ایک جاننے والا میرے پاس آیا۔ وہ عام دنوں میں بہت خوش باش آدمی ہے۔ اچھی ملازمت، خوبصورت گھر اور دو پیاری بیٹیاں۔ لیکن اس دن اس کے چہرے پر عجیب سی ویرانی تھی۔ میں نے پوچھا، "خیریت ہے؟" وہ خاموش رہا۔ میں نے دوبارہ پوچھا، "سب ٹھیک تو ہے؟" اس نے موبائل نکالا، اپنی سات سالہ بیٹی کی تصویر دکھائی اور بولا، "کل رات اس نے مجھ سے ایک سوال کیا اور میں آج تک اس کا جواب تلاش کر رہا ہوں"۔ میں نے پوچھا، "کیا سوال؟" اس کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ وہ بولا، "اس نے پوچھا، ابو! کیا میں محفوظ ہوں؟"
میں چند لمحوں تک اس کی طرف دیکھتا رہا۔ میرے پاس بھی اس سوال کا کوئی آسان جواب نہیں تھا۔ سوچیے! ایک سات سالہ بچی، جسے گڑیوں کی شادی، تتلیوں کے رنگ اور کارٹونوں کی دنیا میں رہنا چاہیے، اگر وہ اپنی سلامتی کے بارے میں سوچنے لگے تو سمجھ لیجیے کہ معاشرے کے اندر کوئی بہت بڑا زلزلہ آ چکا ہے۔ پاکستان اس وقت ایک ایسے کرب سے گزر رہا ہے جس نے ہر حساس دل کو زخمی کر دیا ہے۔ کمسن بچیوں اور بچوں کے ساتھ جنسی درندگی کے واقعات محض کرائم رپورٹس نہیں رہے، یہ ہماری اجتماعی ناکامی، اخلاقی زوال اور سماجی بے حسی کی خوفناک داستان بن چکے ہیں۔ ہر چند دن بعد ایک بچی لاپتہ ہو جاتی ہے، کسی ویرانے سے ایک معصوم کی لاش ملتی ہے، ایک ماں کی گود اجڑ جاتی ہے اور ایک باپ کی کمر ہمیشہ کے لیے ٹوٹ جاتی ہے۔ پھر کیا ہوتا ہے؟ ٹی وی اسکرینیں چیخنے لگتی ہیں، سوشل میڈیا پر غصے کا طوفان آ جاتا ہے، مذمتی بیانات جاری ہوتے ہیں اور چند دن بعد سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔
مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہمارے ملک میں سب سے سستی چیز انسان کا درد اور سب سے مختصر چیز ہماری........
