Zindagi Ke Daire Ka Safar

زندگی کے دائرے کا سبق

زندگی ہمیں وہیں واپس لے آتی ہے جہاں سے ہم نے سفر شروع کیا تھا مگر اس وقت تک ہم پہلے جیسے نہیں رہتے۔ زندگی بھی ایک دائرے کے مانند ہے، ایک ایسا دائرہ جس کا آغاز بھی ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے اور جس کا اختتام بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں سے ہماری کہانی شروع ہوئی تھی۔ انسان پیدا ہوتا ہے انگلی پکڑ کر چلنا سیکھتا ہے دوسروں کے سہارے زندگی کی پہلی سیڑھیاں چڑھتا ہے پھر وقت کے ساتھ اپنے قدموں پر کھڑا ہوتا ہے اسے لگتا ہے کہ اب وہ کسی کا محتاج نہیں اب وہ اپنی منزلوں کا خود مالک ہے مگر زندگی کے سفر میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب وہ پھر کسی سہارے کسی محبت، کسی خلوص اور کسی اپنے کی تلاش میں نکل پڑتا ہے۔

آج جو شخص کسی کمزور کو دیکھ کر مسکرا رہا ہے کل ممکن ہے وہ خود کسی کی مدد کا محتاج ہو، آج جس کے پاس اختیار ہے کل اس کے ہاتھ خالی بھی ہو سکتے ہیں، آج جسے اپنی دولت، عہدے اور تعلقات پر غرور ہے، کل وہی دولت اس کے لیے بے معنی ہو سکتی ہے اور اسے کسی ایسے شخص کے دو میٹھے بول درکار ہوں جو کبھی اس کی نظر میں معمولی حیثیت رکھتا تھا۔ زندگی کا دائرہ ہمیں یہ بھی سمجھاتا ہے کہ کسی کے ساتھ کیا گیا سلوک محض ایک لمحے کا واقعہ نہیں ہوتا وہ ہمارے کردار کا حصہ بن جاتا ہے۔ ہم کسی کے دل میں محبت بوئیں تو ممکن ہے برسوں بعد وہ محبت کسی اور راستے سے ہماری زندگی میں واپس آ جائے ہم کسی کو دکھ دیں تو ضروری نہیں کہ وہی شخص ہمیں جواب دے مگر ہمارے رویّوں کا اثر کسی نہ کسی صورت ہماری دنیا میں ضرور ظاہر ہو سکتا ہے۔

یہ کوئی لازمی قانون نہیں کہ ہر نیکی کا بدلہ فوراً ملے یا ہر برائی کی سزا اسی دنیا میں دکھائی دے لیکن اتنا ضرور ہے کہ ہمارے اعمال دوسروں کی زندگیوں اور ہمارے اپنے کردار پر نشان چھوڑ جاتے ہیں۔ اسی لیے انسان کو اپنی زبان اپنے لہجے اور اپنے اختیار کے استعمال میں محتاط رہنا چاہیے کسی کی غربت کا مذاق نہ اڑائیں........

© Daily Urdu (Blogs)