Ye Na Insafi Kyun?

جمہوریت کی اصل خوبصورتی اس کے نعروں میں نہیں بلکہ اس کے عملی رویّوں میں ہوتی ہے۔ جہاں اختلافِ رائے کے لیے دروازے بند کر دیے جائیں، وہاں فکر و بیان کی ہوا بھی گھٹن کا شکار ہو جاتی ہے حال ہی میں گلگت کے الیکشن کمیشن آفس میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کے موقع پر ایک بڑی سیاسی جماعت کے نمائندے کو داخلے سے روک دیا گیا۔ یہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا سوال جنم دے گیا ہے جو جمہوری ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے۔ کیا ہم واقعی اختلاف کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

سیاسی عمل کی اصل روح شمولیت، برداشت اور برابری میں پنہاں ہے۔ اگر کسی ایک جماعت کو اس عمل سے باہر رکھا جائے تو پورا توازن بگڑ جاتا ہے اور اعتماد کی وہ نازک ڈور کمزور پڑ جاتی ہے جس پر جمہوری ڈھانچہ قائم ہوتا ہے۔ اختلافِ رائے کو دیواروں کے پیچھے قید کرنا مسائل حل نہیں کرتا بلکہ انہیں مزید پیچیدہ اور گہرا بنا دیتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام سیاسی قوتوں کو ایک ہی نظر سے دیکھا جائے نہ کوئی قریب ہو نہ دور نہ کوئی پسندیدہ ہو نہ ناپسندیدہ یہی غیرجانبداری وہ بنیاد ہے جس پر شفاف اور مضبوط جمہوریت کی عمارت کھڑی ہو سکتی ہے اداروں کا وقار بھی اسی میں........

© Daily Urdu (Blogs)