menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Wohi Gari Wohi Manzil

23 0
20.08.2026

ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک شخص نے اپنے دوست سے پوچھا ہم اتنے برسوں سے سفر کر رہے ہیں منزل پھر بھی کیوں نہیں آئی؟ دوست نے مسکرا کر کہا منزل تو وہیں ہے مسئلہ یہ ہے کہ ہماری گاڑی چل ہی نہیں رہی یہ مختصر سا جملہ ہمارے پورے معاشرے کی کہانی بن سکتا ہے ہم نے سڑکیں بدل لیں، گاڑیاں بدل لیں، موبائل بدل لیے لباس بدل لیے رہن سہن بدل لیا، دنیا چاند سے آگے نکل کر مریخ تک پہنچ گئی مصنوعی ذہانت انسان کے فیصلوں میں شریک ہوگئی لیکن ہمارے ہاں بعض جگہوں پر فکری گاڑی آج بھی وہیں کھڑی ہے جہاں نصف صدی پہلے کھڑی تھی۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس علماء نہیں مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس ایسے رہنما کتنے ہیں جو اپنے زمانے کو سمجھتے ہیں؟ جو اپنی فکر کو معاشرے کی برائیوں کو روکنے پر مرکوز رکھتے ہین یہ سوال بہت اہم ہے۔

عالم صرف وہ شخص نہیں جو کتاب پڑھ چکا ہو عالم وہ بھی ہے جو اپنے عہد کو پڑھتا ہو جو نوجوان کے ذہن میں اٹھنے والے سوال کو سمجھ سکے، جو معاشرے کی بیماری کی تشخیص کر سکے جو مذہب کو محض تقریر کا موضوع نہیں بلکہ زندگی کی رہنمائی بنا سکے مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں بعض صاحبانِ ممبر نے شاید یہ سمجھ لیا ہے کہ جتنا بلند لہجہ ہوگا اتنی بڑی بات ہوگی جتنا بڑا مجمع ہوگا اتنی بڑی کامیابی ہوگی جتنی زیادہ ویڈیوز وائرل ہوں گی اتنی زیادہ دینی خدمت ہوگی۔ یہاں ایک بنیادی فرق بھلا دیا گیا ہے شہرت اور رہنمائی ایک چیز نہیں........

© Daily Urdu (Blogs)