Rasm e Muzammat, Akhir Kab Tak?

مذمتوں اور رسمی کمیشنوں کی مشق اب بند ہونی چاہیے اب یہ سانسوں کا تسلسل بند ہونا چاہیے بس بہت ہوگیا یہ مزمت در اصل منافقت ہے فراڈ ہے دھوکہ ہے بددیانتی ہے بلکہ یہ پرلے درجے کی بیغیرتی ہے اب مذمت نہیں ان انسانیت کے دشمنوں کی مرمت کی ضرورت ہے انکو سہولیات فراہم کرنے کی بجائے انہیں کٹھرے میں کھڑا کرنے کا وقت ہے ہر حادثے مخں سوائے مذمت یا دہشت گرد افغانستان سے آیا ہے جیسے فرسودہ روایات کو ختم کرکے اصل مجرموں تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔

مجرم جو اسلام آباد میں پل رہے ہیں ہماری ایجنسیوں کو سب علم ہے بس یہ مناسب وقت میں شیطانی کھیل کھیل رہی ہوتی ہیں تاکہ انکا ڈر خوف اس عوام پر طاری رہے۔ ملک سانس لے رہا ہے مگر وہ سانس جو زندگی دے نہیں، وہ سانس جو حادثے کے بعد لی جاتی ہے وہی گہری تھکی ہوئی سانس جو مذمت کے بیان سے پہلے بھری جاتی ہے اور جنازے کے بعد چھوڑ دی جاتی ہے۔ یہ سانسوں کا تسلسل اب بند ہونا چاہیے کیونکہ قومیں سانسوں سے نہیں فیصلوں سے زندہ رہتی ہیں۔

ایک اور........

© Daily Urdu (Blogs)