Pakistan Ka Switzerland |
پاکستان کا سوئٹزرلینڈ
میں نے دنیا کے کئی خوبصورت علاقوں کی تصاویر دیکھی ہیں سوئٹزرلینڈ کی برف پوش چوٹیاں آسٹریا کی سرسبز وادیاں، نیوزی لینڈ کی نیلگوں جھیلیں اور کینیڈا کے خاموش جنگلات یہ سب اپنی جگہ بے مثال ہیں مگر سچ یہ ہے کہ اگر قدرت کے شاہکاروں کی فہرست بنائی جائے تو گلگت بلتستان، خصوصاً استور اس فہرست میں کسی سے کم نہیں فرق صرف اتنا ہے کہ انہوں نے اپنی نعمتوں کو معیشت بنا لیا اور ہم نے اپنی نعمتوں کو محرومی کی داستان بنا دیا۔
قدرت نے گلگت بلتستان، استور کو کسی خزانے کی طرح تراشا ہے یہاں صبح سورج کی پہلی کرن جب برف پوش چوٹیوں پر پڑتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پہاڑوں پر سونا بکھر گیا ہو شام ڈھلے نیلگوں جھیلیں آسمان کا عکس اپنے سینے میں سمو لیتی ہیں دیودار کے جنگلات، سبزہ زار، گلیشیئر، جھرنے اور خاموش وادیاں انسان کو یہ احساس دلاتی ہیں کہ شاید زمین پر جنت کا کوئی منظر اگر موجود ہے تو وہ یہی ہے بالخصوص اس وقت دیوسائی کا خوبصورت منظر اس خوبصورتی خا چاند چار لگا دیتا ہے شیو سر لیک کا نیلا پانی چاروں اطراف کھلکھلاتے اور لہلہاتے پھول دیکھنے والے محو حیرت سے دوچار ہوتے ہیں۔
لیکن پھر ایک سوال دل میں اٹھتا ہے اگر استور اتنا خوبصورت ہے تو دنیا اسے کیوں نہیں جانتی؟ جواب تلخ ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ قدرت کی عطا کردہ نعمتوں سے زیادہ اہم انسان کی نیت اور قیادت ہوتی ہے جہاں قیادت دیانت دار ہو وہاں بنجر زمینیں بھی سرسبز نظر آتی ہے اور جہاں مفادات حکمرانی کریں وہاں جنت بھی ویران دکھائی دینے لگتی ہے ہم نے استور کو صرف نعروں میں یاد رکھا ہر........