Maghrab, Taqat Aur Insaniyat Ka Dohra Mayar
مغرب، طاقت اور انسانیت کا دوہرا معیار
چند برس پہلے سعودی عرب کے ایک کمرے میں ایک مزدور دوست سے ملاقات ہوئی وہ زیادہ پڑھا لکھا نہیں تھا مگر دنیا کو اپنے انداز میں سمجھتا تھا۔ ایک دن اس نے مجھ سے پوچھا مرموی صاحب! یہ مغرب آخر ہے کیا؟ ہم سنتے ہیں وہاں قانون ہے انصاف ہے، انسانیت ہے پھر غزہ میں بچے کیوں مرتے ہیں؟ ایران پر دباؤ کیوں ہے؟ طاقتور ملک کمزور ملکوں کو کیوں ڈراتے ہیں؟ کیوں انکی سلطنتوں پر قبضہ کرتے ہیں اور آسکتی صدر یا وزیر اعظم کو گرفتار کرتے ہیں آخر ایسا کیوں ہے۔ میں اس سوال کا فوری جواب نہ دے سکا اس لیے نہیں کہ جواب موجود نہیں تھا بلکہ اس لیے کہ دنیا کے بڑے سوالوں کے جواب ہمیشہ سیاہ اور سفید میں نہیں ہوتے تاریخ کی کتابیں ہمیں بتاتی ہیں کہ قومیں بھی انسانوں کی طرح ہوتی ہیں ان میں خوبیاں بھی ہوتی ہیں کمزوریاں بھی اصول بھی اور مفادات بھی۔
ہماری نسل نے مغرب کو ہمیشہ دو تصویروں میں دیکھا پہلی تصویر وہ تھی جو کتابوں، یونیورسٹیوں، سائنس ٹیکنالوجی، قانون، جمہوریت، انسانی حقوق اور اداروں کی صورت میں ہمارے سامنے آئی، دوسری تصویر وہ تھی جو جنگوں، پابندیوں، طاقت کی سیاست، عالمی مفادات اور کمزور قوموں کے ساتھ مختلف رویوں میں دکھائی دی اصل سوال یہ نہیں کہ مغرب اچھا ہے یا برا اصل سوال یہ ہے کہ کیا دنیا واقعی اصولوں پر چلتی ہے یا طاقت کے توازن پر؟
سیاست میں دعوے اور حقیقت کے درمیان ہمیشہ ایک فاصلہ موجود ہوتا ہے یہی بات عالمی سیاست پر بھی صادق آتی ہے۔ امریکہ، یورپ، روس، چین، مشرق وسطیٰ یا جنوبی ایشیا ہر جگہ ریاستیں اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرتی ہیں فرق صرف یہ ہے کہ بڑی طاقتوں کے فیصلوں کے اثرات پوری دنیا پر پڑتے ہیں غزہ اس دور کا سب سے بڑا سوال بن چکا ہے۔ ہزاروں جانیں اور گھر تباہ زخمی بچے، اجڑے خاندان یہ سب انسانیت کے ضمیر پر سوالیہ نشان ہیں۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا شہریوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتی رہی ہیں دوسری طرف اسرائیل اپنی سلامتی اور حماس کے حملوں کو بنیاد بنا کر اپنی کارروائیوں کا دفاع کرتا ہے لیکن جنگ کی سب سے بڑی قیمت ہمیشہ عام لوگ ادا کرتے ہیں نہ حکمران نہ جرنیل، نہ طاقتور یہی بات ایران کے معاملے میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ ایک طرف جوہری پروگرام پر دباؤ، پابندیاں اور مذاکرات ہیں دوسری طرف خطے میں طاقت کا توازن سلامتی کے خدشات اور عالمی مفادات ہیں سوال پھر وہی پیدا ہوتا ہے کہ کیا عالمی قانون سب کے لیے ایک جیسا ہے یا طاقت کے مطابق اس کی تشریح بدل جاتی ہے؟
اسرائیل کی ایٹمی صلاحیتوں پر نسبتاً کم بحث اور ایران کے پروگرام پر زیادہ دباؤ عالمی سیاست میں دوہرے معیار کی بحث کو جنم دیتا ہے اس پر........
