menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Khidmat e Insaniyat Sab Se Azeem Ibadat

12 22
11.02.2026

آج کی تیز رفتار دنیا میں جہاں دولت اور شہرت کی دوڑ لگی ہوئی ہے، وہاں انسانی قدریں اور اخلاقیات اکثر پسِ پشت ڈال دی جاتی ہیں۔ ایک طرف صاحبِ ثروت افراد لاکھوں کی مالیت سے مساجد، عمارتیں اور دیگر نمائشی منصوبے تعمیر کرتے ہیں، تو دوسری طرف انہی کے ارد گرد انہی کے محلے اور پڑوس میں بھوک غربت اور بیماری سے لڑنے والے لوگ نظر نہیں آتے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسی نمائش اللہ کی بارگاہ میں قبول ہوگی؟

کیا یہ حقیقی عبادت ہے یا محض دکھاوا اور شہرت کی ہوس اس تحریر میں ہم اس موضوع پر غور کریں گے کہ خدمتِ انسانیت کیوں سب سے عظیم عبادت ہے اور پاکستان جیسے ملک میں جہاں دولت کی فراوانی ہے وہاں خدمت کی توفیق کیوں کم ہے اسلامی تعلیمات میں عبادت کا دائرہ صرف نماز، روزہ اور حج تک محدود نہیں ہے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ المسلم من سلم المسلمون من لسانه ویده، یعنی مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔

اس سے آگے بڑھ کر خدمتِ خلق کو اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے لیکن آجکل نہ تو مسلمان، مسلمان کے ہاتھوں محفوظ ہے اور نہ ہی خدمت انسانیت ہے اگر کہیں ہے تو بھی نمک میں آٹے کے برابر جو نہ ہونے کے مترادف ہے۔ بہت سے مالدار افراد اپنی دولت کو نمائشی طور پر استعمال کرتے ہیں وہ بڑی بڑی مساجد بناتے ہیں جن کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرکے شہرت کماتے ہیں مگر اپنے محلے میں غریب جو دو وقت کی روٹی بھی پوری نہیں کرسکتا وہ ان لوگوں کو نظر........

© Daily Urdu (Blogs)