Kahani Pardesiyon Ki (1)
کہانی پردیسیوں کی (1)
تمام مسافر پردیسی دن بھر کی تھکاوٹ سے چور ہو کر نہا دھو کر قریب ایک پارک پر دن بھر کی گزری رواد لیکر جب بیٹھتے ہیں تو وہ منظر بھی کیا منظر ہوتا ہے۔ آج بھی حسب روایت تمام پردیسی بھائی چھوٹے سے ایک پارک میں خوش گپیوں کو لیکر زندگی کی ایک اور گزرے دن کی کہانی لیکر بیٹھے ہوئے تھے۔ منظر کچھ اسطرح کا ہے شام آہستہ آہستہ اس چھوٹے سے پارک پر اتر رہی تھی ریت آلود ہوا میں کہیں دور سمندر کی نمی گھلی ہوئی تھی اور کھجوروں کے درخت ایسے خاموش کھڑے تھے جیسے صدیوں سے پردیسیوں کے دکھ سننے کے عادی ہوں۔ یہ کوئی بڑا باغ نہیں تھا نہ یہاں رنگین روشنیوں کی قطاریں تھیں اور نہ ہی امیروں کے بچوں کی قہقہوں سے آباد کوئی دنیا یہ محض چند بینچوں کچھ تھکے ہوئے درختوں اور خاموش راستوں پر مشتمل ایک چھوٹی سی پناہ گاہ تھی جہاں دیارِ غیر میں جلتے ہوئے دل شام کے بعد آ کر اپنے وجود کی راکھ جھاڑتے تھے یہاں بیٹھنے والے اکثر لوگ مزدور ہوتے ہیں۔
وہ لوگ جن کے ہاتھوں کی لکیروں میں........
