menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Jhanday, Naatein, Naare Magar Kirdar Ghaib

14 0
previous day

جھنڈے، نعتیں، نعرے مگر کردار غائب

آج پاکستان میں ہر طرف اسلامی جلوے ہی جلوے ہیں گلیاں سجی ہوئی ہیں بازار روشن ہیں گھروں پر جھنڈے لہرا رہے ہیں مساجد میں محفلیں برپا ہیں درود و سلام کی صدائیں بلند ہیں نعتیں پڑھی جا رہی ہیں لنگر تقسیم ہو رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر محبتِ رسول ﷺ کے مظاہروں کی بھرمار ہے ہر طرف ایک ہی صدا سنائی دیتی ہے ہر زبان پر عشقِ رسول ﷺ کا دعویٰ ہے اور ہر شخص خود کو عاشقِ رسول ﷺ ثابت کرنے میں مصروف ہے یہ منظر بلاشبہ خوبصورت ہے مگر ایک سوال ہے اگر یہ سب کچھ ہمارے کردار میں نظر نہیں آتا تو پھر اس سارے شور کا حاصل کیا ہے؟

ہماری زبانوں پر عشقِ رسول ﷺ ہے مگر ہمارے معاملات میں دھوکہ ہے ہماری محفلوں میں درود ہے مگر بازاروں میں ملاوٹ ہے ہمارے ماتھوں پر سجدوں کے نشان ہیں مگر ہمارے ہاتھ دوسروں کے حقوق پر قابض ہیں۔ ہمارے گھروں پر اسلامی جھنڈے ہیں مگر ہمارے دل نفرتوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ ہم نعت سنتے ہیں جذباتی ہوتے ہیں آنکھیں نم کرتے ہیں نعرے لگاتے ہیں مگر اگلے ہی دن وہی جھوٹ وہی رشوت وہی دو نمبری وہی سفارش وہی ظلم اور وہی ناانصافی ہماری زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔

یہ کیسا عشق ہے؟ یہ کیسی محبت ہے؟ یہ کیسی نسبت ہے؟

ہمیں ذرا رک کر سوچنا ہوگا ہم جس نبی کریم ﷺ کے امتی ہونے پر فخر کرتے ہیں کیا ہم نے کبھی تنہائی میں بیٹھ کر یہ سوال بھی کیا کہ ہمارے اخلاق میں آپ ﷺ کی کتنی جھلک موجود ہے؟ ہماری زبان سے کسی کو تکلیف پہنچتی ہے یا سکون؟ ہماری وجہ سے کسی کا حق مارا جاتا ہے یا حق ملتا ہے؟ ہم کمزور کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں یا طاقتور کے دروازے پر کھڑے ہو جاتے ہیں؟ ہم کسی ضرورت مند کو دیکھ کر اس کا ہاتھ تھامتے ہیں یا اس کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہیں؟

محبت صرف نعرہ نہیں ہوتی، محبت صرف جھنڈا نہیں ہوتی، محبت صرف نعت نہیں ہوتی، محبت صرف ایک دن کی محفل نہیں ہوتی، محبت انسان کو بدل دیتی ہے۔

اگر انسان محبت کے بعد بھی وہی رہ جائے جو محبت سے پہلے تھا تو پھر اسے محبت کہنا مشکل ہے۔ آج ہم رسول اکرم ﷺ سے محبت کے دعوے تو بہت کرتے ہیں مگر سیرتِ رسول ﷺ کو اپنی زندگی میں داخل کرنے کے لیے تیار نہیں ہم حرمتِ رسول ﷺ کے لیے جان دینے کی بات کرتے ہیں مگر سیرتِ رسول ﷺ کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے اپنی عادات، مفادات اور رویے قربان کرنے کو تیار نہیں ہمیں ذرا یہ فرق سمجھنا ہوگا۔

محبتِ رسول ﷺ کا سب سے بڑا ثبوت یہ نہیں کہ ہم محبت کا اعلان کتنی بلند آواز میں کرتے ہیں، اصل ثبوت یہ ہے کہ ہم آپ ﷺ کے اخلاق کو اپنی زندگی میں کتنا اتارتے ہیں رسول اکرم ﷺ نے ہمیں صرف عبادات نہیں سکھائیں معاملات بھی سکھائے۔

آپ ﷺ نے ہمیں صرف مسجد کا راستہ نہیں دکھایا انسانیت کا راستہ بھی دکھایا، آپ ﷺ نے ہمیں صرف نماز نہیں سکھائی پڑوسی کا حق بھی سکھایا، آپ ﷺ نے ہمیں صرف روزہ نہیں سکھایا۔ بھوکے کا احساس بھی سکھایا، آپ ﷺ نے ہمیں صرف ذکر نہیں سکھایا زبان........

© Daily Urdu (Blogs)