Jab Iqtedar Usoolon Ko Nigal Jaye
جب اقتدار اصولوں کو نگل جائے تو ریاست تماشہ بن جاتی ہے اور عوام محض ہجوم پھر فیصلے آئین سے نہیں مصلحت سے ہوتے ہیں سچ جرم اور جھوٹ حکمت کہلاتا ہے۔ ترقی کے نام پر ضمیر گروی رکھ دیا جاتا ہے اور انصاف فائلوں میں دفن ہو جاتا ہے۔ ایسے نظام میں سڑکیں بنتی ہیں مگر راستہ بھٹک جاتا ہے، منصوبے مکمل ہوتے ہیں مگر انسانی وقار نامکمل رہتا ہے اقتدار اگر اصولوں کا اسیر نہ ہو تو وہ یزیدیت میں ڈھل جاتا ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ ایسے اقتدار کی عمر طویل نہیں اس کا انجام عبرت ہوتا ہے۔
یزید کے دور کی مثال یونہی نہیں دی جاتی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سڑکیں محل قلعے اور خزانے کبھی حق و باطل کا معیار نہیں ہوتے اصل کسوٹی یہ ہوتی ہے کہ اقتدار کس اصول پر قائم ہے اور کس قیمت پر چلایا جا رہا ہے۔ یزید کے عہد میں بھی نظم و نسق تھا تعمیرات تھیں خزانہ بھرا ہوا تھا مگر وہ سب کچھ اس وقت بے معنی ہوگیا جب اقتدار نے دین کو اپنی خواہشات کے تابع کر لیا اور حق کے مقابلے میں طاقت کو کھڑا کیا۔
آج بھی منظرنامہ........
