Insani Takhleeq, Zindagi Bator Azmaish

قرآنِ مجید انسانی وجود کو محض ایک فطری حادثہ نہیں بلکہ ایک بامقصد تخلیق قرار دیتا ہے انسان کی پیدائش نشوونما اور زندگی کے مختلف مراحل دراصل ایک مسلسل امتحانی سفر ہیں، جس میں تنگی، آسانی پریشانی اور آسائش سب شامل ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے وَلَقَدُ خَلَقُنَا الُإِنسَانَ مِن نُّطُفَةٍ أَمُشَاجٍ نَّبُتَلِيهِ اور یقیناً ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا تاکہ ہم اسے آزمائیں (سورہ الدہر: 2)۔

قرآن واضح کرتا ہے کہ انسان کو اس دنیا میں مکمل آرام کے لیے نہیں بلکہ جدوجہد اور امتحان کے لیے بھیجا گیا ہے۔

لَقَدُ خَلَقُنَا الُإِنسَانَ فِي كَبَدٍ یقیناً ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے۔ (سورہ البلد: 4)

ان تنگیوں اور پریشانیوں کا مقصد انسان کو توڑنا نہیں بلکہ نکھارنا ہے کبھی خوف کبھی فقر کبھی بیماری اور کبھی محرومی کے ذریعے انسان کے صبر توکل اور ایمان کو پرکھا جاتا ہے قرآن کی وسعت یہ بتاتی ہے کہ آزمائش صرف دکھ میں نہیں بلکہ خوشحالی میں بھی ہے نعمتیں بھی ذمہ داری اور امتحان ہیں تاکہ دیکھا جائے انسان شکر گزار بنتا ہے یا غفلت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

وَنَبُلُوكُم بِالشَّرِّ وَالُخَيُرِ فِتُنَةً (سورہ الانبیاء: 35)

پس قرآنی تعلیم یہ ہے کہ زندگی کے نشیب و فراز عارضی ہیں مگر ان میں اختیار کیا گیا رویہ مستقل انجام کا فیصلہ کرتا ہے جو انسان آزمائش میں........

© Daily Urdu (Blogs)