Chaye Ke Khokhay Par Aik Siasi Mukalma
گلگت کی ایک تنگ گلی میں واقع چائے کے کھوکھے پر شام اتر رہی تھی دھوئیں میں لپٹی کیتلی اخبار کے بکھرے ہوئے اوراق اور دیوار پر مسکراتے سیاستدانوں کے پوسٹر جن کی مسکراہٹ میں ہمیشہ کی طرح یقین کم اور مکاری زیادہ تھی۔
احمد، جوش اور غصے کا امتزاج کرسی پر پہلو بدلتے ہوئے بولا بابا جی! پھر وہی ڈرامہ شروع ہوگیا ہے الیکشن قریب آئے نہیں کہ نو سرباز جاگ اٹھے ہیں کوئی نوکریوں کی بارش کا وعدہ کر رہا ہے کوئی سڑکوں کا جال بچھانے کا خواب دکھا رہا ہے کوئی ٹھیکے بانٹنے کی بات کر رہا ہے وفاق سے آئے ایک مگرمچھ نے تو حد ہی کر دی کہتا ہے بجلی کا مسئلہ بائیں ہاتھ کا کھیل ہے لگتا ہے سب مگرمچھ شکار کے موڈ میں ہیں۔
بابا جی نے اخبار تہہ کیا چائے کی چسکی لی اور مسکرا کر بولے بیٹا احمد! یہ گلگت بلتستان ہے یہاں سیاست موسموں کے ساتھ بدلتی ہے الیکشن کا موسم........
