menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Agar Ho Mir e Karvan Aisa

13 1
10.02.2026

نظم و ضبط کے بغیر کوئی چھوٹے سے چھوٹا ادارہ بھی درست کام نہیں کرسکتا۔ قائد اعظم کے اس دوسرے اصول کی بے حد قائل ہمارے کالج کی پرنسپل مس وحیدہ کچلو نے اپنے آنے کے ابتدائی چند دنوں میں ہی اندازہ کرلیا کہ اس ادارے میں نظم و ضبط نامی کوئی چیز سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ اپنے پہلے تعارف میں انہوں نے اپنے منشور کی اس شق کا اجمالی ذکر تو کر دیا تھا مگر اب اس پر تفصیلی عمل بھی شروع ہوگیا۔ کالج کے سامنے سڑک کے پار پرنسپل کے لئے بنائی گئی رہائش گاہ سے پونے آٹھ بجے مس کچلو برآمد ہوتیں اور نہایت وقار سے چلتی ہوئی کالج کے گیٹ میں داخل ہو کر ادھر ہی کھڑی ہو جاتیں اور آٹھ بجے کے بعد آنے والی طالبات کو انتظامیہ کے گیٹ پر اپنے دیر سے آنے کی وجہ ایک رجسٹر میں لکھ کر اور اس پر اپنے دستخط کرنے کے بعد اندر داخل ہونے کی اجازت ملتی۔ ایک سے ذیادہ بار ایسا کرنے پر لڑکی کے گھر سے کسی کو بلا کر بتایا جاتا کہ آپ کی لڑکی لیٹ آتی ہے آپ اسے وقت کی پابندی سکھائیں۔

ان دنوں لباس میں ٹیڈی فیشن چل رہا تھا کچھ لڑکیوں نے یونیفارم بھی اسی فیشن کے مطابق سلوا لئے۔ قمیضوں کے چاک بہت چھوٹے اور شلواروں کے پائینچے اتنے تنگ کہ بٹنوں کے بغیر پہنے نہ جا سکیں جب کہ مس کچلو کا فرمان تھا کہ کپڑوں کا سائز درمیانہ ہو نہ اتنے کھلے کہ نوجوان لڑکیاں جھلی لگیں نہ اتنے تنگ کہ اعضائے بدن ان میں پورے آنے سے انکار کرتے نظر آئیں۔ شلواریں بٹنوں کی محتاج نہ ہوں۔

سدا کی خود سر کچھ لڑکیاں پرنسپل کی ہدایات کو خاطر میں نہ لائیں اور یونیفارم کی سلائی میں من مانی کے علاوہ چوڑیاں........

© Daily Urdu (Blogs)