Sahafion Aur Media Workers Ke Tahafuz Ka Tarmeemi Bill |
سینیٹ کا تاریخی قدم یا کاغذی وعدہ؟ پاکستان میں صحافت ہمیشہ سے ایک مشکل، خطرناک اور بعض اوقات جان لیوا پیشہ رہا ہے۔ سچ بولنے کی قیمت اکثر گولی، اغوا، مقدمات، معاشی دباؤ اور سماجی تنہائی کی صورت میں وصول کی جاتی رہی ہے۔ ایسے ماحول میں اگر سینیٹ سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے تحفظ کا ترمیمی بل منظور ہوا ہے تو بظاہر یہ ایک خوش آئند، جرات مندانہ اور تاریخی پیش رفت دکھائی دیتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ قانون واقعی صحافیوں کے لیے ڈھال بنے گا یا ماضی کے کئی قوانین کی طرح فائلوں میں دفن ہو کر رہ جائے گا؟
اس ترمیمی بل کی سب سے اہم شق یہ ہے کہ اظہارِ رائے سے مراد معلومات کو نشر اور شائع کرنے کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔ یہ شق آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 19 کی روح سے ہم آہنگ ہے، جو آزادیٔ اظہار کو بنیادی حق قرار دیتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے زمینی حقائق یہ ہیں کہ یہی آزادیٔ اظہار سب سے زیادہ پامال کی جاتی رہی ہے، خصوصاً صحافیوں کے معاملے میں۔
بل کے تحت صحافیوں کے تحفظ کے لیے ایک خودمختار کمیشن کے قیام کی تجویز دی گئی ہے، جس کا چیئرمین ہائی کورٹ کا جج یا جج بننے کی اہلیت رکھنے والا شخص ہوگا۔ شرط یہ رکھی گئی ہے کہ چیئرمین کے پاس کم از کم پندرہ سال کا قانونی تجربہ ہو، خصوصاً انسانی حقوق اور صحافیوں کے حقوق کے حوالے سے۔ یہ شرط بلاشبہ ایک مثبت قدم ہے کیونکہ ماضی میں اکثر ایسے ادارے بنائے گئے جن کی........