Muntaha Ke Naam
بعض خبریں صرف خبر نہیں ہوتیں، وہ دل کے کسی نہایت نرم گوشے میں اتر کر وہاں مستقل درد کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ چند روز قبل سرگودھا کی معصوم بچی منتہا کے ساتھ پیش آنے والے المناک واقعے کی خبر بھی میرے لیے ایسی ہی ایک خبر تھی۔ خبر پڑھتے ہی یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے میرے بچپن کی یادوں، میرے شہر کی محبتوں اور میری روح کے کسی روشن کمرے میں اندھیرا بھر دیا ہو۔
سرگودھا صرف ایک شہر نہیں، میرا آبائی شہر ہے۔ اس کے گلی کوچوں سے میری بے شمار یادیں وابستہ ہیں۔ انہی گلیوں میں میرا بچپن دوڑا، انہی راستوں پر خوابوں کے تعاقب میں بھاگا، انہی بازاروں اور محلوں میں زندگی کے ابتدائی رنگ دیکھے۔ میں نے ہمیشہ سرگودھا کو محبت، خلوص، اپنائیت اور زندہ دلی کا شہر پایا۔ مگر جب اسی شہر سے ایک معصوم بچی کی بے دردی سے زندگی چھین لینے کی خبر آئی تو یوں لگا جیسے کسی نے میرے شہر کے ماتھے پر خون آلود داغ لگا دیا ہو۔
سرزمین ادبی فورم کے شعبہ اردو ادب کی جانب سے شاعرہ نجمہ منصور نے اس سانحے پر جو نظم لکھی، اسے پڑھتے ہوئے دل بار بار بھر آیا۔ نظم کا عنوان ہی انسان کو اندر تک ہلا دیتا ہے: "وہ تتلی۔۔ جو رنگ لینے نکلی تھی"۔
کتنی سادہ اور کتنی دردناک علامت ہے یہ تتلی!
واقعی تو وہ ایک تتلی........
