Dr. Khalid Javed

وقت کے وسیع دامن میں کچھ لمحات ایسے بھی آتے ہیں جو محض رسمی نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے اوراق میں ایک روشن حوالہ بن جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک خوشگوار لمحہ اُس وقت سامنے آیا جب چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کی قیادت ایک ایسے صاحبِ علم، صاحبِ کردار اور صاحبِ بصیرت انسان کے سپرد کی گئی، جنہیں میں نہ صرف ایک وائس چانسلر کے طور پر بلکہ ایک دیرینہ رفیق، ہم خیال ساتھی اور مخلص دوست کے طور پر جانتا ہوں۔ پروفیسر ڈاکٹر ایم۔ طارق جاوید کی بطور وائس چانسلر تقرری بلاشبہ ایک ادارہ جاتی فیصلے سے کہیں بڑھ کر ایک فکری، علمی اور اخلاقی سمت کا تعین ہے، ایک ایسا فیصلہ جو آنے والے برسوں میں اس جامعہ کی شناخت کو نئی بلندیوں سے ہمکنار کرے گا۔

زندگی کے سفر میں بہت سے لوگ ملتے ہیں، کچھ محض راہگزر کے ساتھی ہوتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی موجودگی انسان کی سوچ، فکر اور طرزِ عمل پر دیرپا اثر چھوڑتی ہے۔ ڈاکٹر طارق جاوید اُنہی شخصیات میں سے ہیں جن کے ساتھ گزرا ہوا وقت آج بھی ذہن کے دریچوں میں تازہ ہے۔ جامع زرعیہ فیصل آباد میں ڈاکٹر طارق جاوید، ڈاکٹر محسن رضا اور راقم شاہد نسیم یک جان تین قالب تھے۔ چار دہائیوں سے ذیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود اور خود غرض زمانے کے نشیب وفراز نے ہماری دوستی پر کوئی اثر نہیں ڈالا۔ ہم آج بھی ایک دوسرے کے لئے ویسے ہی ہیں۔ ڈاکٹر طارق جاوید کی شخصیت میں جو سادگی ہے، وہ بناوٹ سے پاک ہے، جو محنت ہے، وہ دکھاوے سے عاری ہے اور جو قابلیت ہے، وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ یہی اوصاف انہیں ایک عام استاد سے ایک غیر معمولی قائد میں ڈھالتے ہیں۔

تعلیم کے میدان میں اصل کامیابی........

© Daily Urdu (Blogs)