Burewala Ki Doctor |
بویوالہ میں ایک اسسٹنٹ کمشنر اپنے کیمرہ مین کے ساتھ اپنے کالر پر مائیک لگائے تحصیل ہسپتال میں داخل ہوا اور جب اس نے دیکھا کہ ڈاکٹر سفید کوٹ پہنے اپنی ڈیوٹی کررہے ہیں۔ جب کوئی بھی ڈاکٹر موبائل پر مصروف نظر نہ آیا تو اس کو یقینی طور پر پریشانی ہوئی ہوگی کہ وہ کس طرح سے ڈاکٹروں کے ساتھ بدتمیزی کا موقع ڈھونڈے۔ پھر اس نے دیکھا کہ ایک لیڈی ڈاکٹر کئی مریضوں کے درمیان بیٹھی مریض دیکھ رہی ہے۔ اس نے سوچا کہ یہ موقع اچھا ہے ایک جاندار ویڈیو بنانے کا اور اپنے دن کی کاروائی ڈالنے کا چنانچہ اس نے لیڈی ڈاکٹر کے پاس جاکر سی ٹی سکین مریض کو تفویض نہ کرنے کا بہانہ بنایا اور اونچی آواز میں چلانا شروع کردیا۔
اس نے ڈاکٹر سے پوچھنا شروع کردیا کہ آپ مریضوں کو سی ٹی سکین کیوں لکھ کر نہیں دیتے ہو اور لگتا یہی تھا کہ حکومت نے کوئی نئی سی ٹی سکین مشین اس ہسپتال میں فراہم کی تھی۔ اب دنیا کو بتانا ضروری تھا کہ تحصیل ہسپتال میں ایک عدد سی ٹی سکین مشین موجود ہے اور یہ ڈاکٹر لوگ بڑے ظالم ہیں جو مریضوں کو ہسپتال کی سہولت دینے کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ روز کا معمول ہے جب کسی نہ کسی ہسپتال میں کوئی بیوروکریٹ پہنچتا ہے اور پھر ہسپتالوں کے آؤٹ ڈور یا ایمرجنسی میں جاکر سیاست کرتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات موجود ہیں اور نہ ہی ڈاکٹر دستیاب ہیں۔ جہاں دس ڈاکٹروں کی ضرورت ہے وہاں دو یا تین ڈاکٹروں سے کام لیا جاتا ہے اور ایک ہی ڈاکٹر جب بیسیوں مریضوں کا روزانہ معائنہ کرتا ہے تو پھر کوالٹی لانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے۔
ایسی صورت میں کہ جب ان ہسپتالوں میں ادویات بھی موجود نہیں ہوتی ہیں اور دیگر آلات بھی ناکافی ہوتے ہیں تو خالی سوال جواب سے معاملات طے نہیں ہو سکتے ہیں۔ یہ سارے تماشہ گیر افسران اصل مسائل کی طرف نہیں آتے ہیں اور چیخ چلا کر سارا مدعا ڈاکٹر حضرات پر ڈال کر چلے جاتے ہیں اور ثابت یہ کرتے ہیں کہ وہ لوگ اپنے کام کے ساتھ بڑے کمٹڈ ہیں جب کہ باقی سارا ملک کام چوری اور نکما ہے۔
مجھے اس بات کا ہمیشہ افسوس ہی رہتا ہے کہ اتنی........