Utopia
نیند بھی کیا مست الست نعمت۔ کیا یاد رکھنا ہے، کسے بھول جانا ہے سب سے بے پروا اپنی ہی رو میں رواں۔ آج مڈ ویک سو میرا ڈے آف۔ سچی اس بھگدڑ مچی دنیا میں گہری اور بے خواب نیند، الوہی تحفہ۔ ہاں میں خواب نہیں دیکھتی بلکہ دیکھنا چاہتی بھی نہیں۔ میں عرصے دراز تک ایک ہی خواب میں مقید رہی جو در اصل خواب نہیں بلکہ سفاک حقیقت کا عکسِ تسلسل تھا۔ اس خواب کی دہشت مجھے سونے نہ دیتی تھی اور حال کی ستم گری میری سانسیں محال رکھتی۔ عرصہ ہوا وہ کٹھن وقت تو بیت گیا مگر یادداشت سے نہ بسرا۔
میں نے کمرے سے نکلتے ہوئے حسبِ معمول امی کے کمرے میں جھانکا، ارے کمرہ خالی!
میں تیزی سے سیڑھیاں اترتی ہوئی لیونگ روم میں آئی۔ صوفے پر بیٹھی امی کی جھلک نے میرے اضطراب کو اطمینان میں بدل دیا۔ امی اور ٹی وی! ایسا اتفاق شاذ و نادر ہی ہوتا۔ امی اب بہت ضعیف ہو چکی ہیں مگر ان کا کتب بینی کا شوق ہنوز جواں۔ کیا آپ یقین کریں گے کہ وہ محدب عدسے کی مدد سے کتابیں پڑھتی ہیں۔ شکر کہ یہاں میلبورن کے کتب خانوں میں عمر رسیدہ لوگوں کے لیے بڑے پرنٹ میں کتب عام دستیاب۔ ان کا دوسرا شوق یو ٹیوب پر پوڈ کاسٹ سننا اور وہ بھی کرائم پوڈ کاسٹ۔ امی کو فطرت سے شدید لگاؤ سو ہمارے گھر کا مختصر سا باغیچہ ان کا گوشہ عافیت۔ ان کی حسِ جمال اور باغبانی سے لگاؤ کا یہ عالم کہ ہمارا ننھا سا لان اپنے محلے کا نمائندہ و سرکردہ۔ میری بیاسی سالہ امی اس عمر میں بھی متحرک مگر اب ماضی جیسی پھرتیلی نہیں۔
میں جیسے ہی امی کے پہلو میں آکر بیٹھی، مجھے انہونی کا احساس ہوا۔ میں گھبرا کر ٹی وی کی جانب متوجہ ہوئی اور اسکرین پر نظر پڑتے ہی مجھے امی کی سراسیمگی سمجھ میں آ گئی۔ میں نے کھٹ سے ٹی وی آف کرتے ہوئے کانپتی ہوئی امی کو گلے لگا لیا۔ میں خود بے طرح گھبرا گئی تھی اور میرا دل گویا حلق میں دھڑک رہا تھا۔ کتنی دیر تک میں امی کے نحیف وجود کو اپنی بانہوں کے حلقے میں لیے جانے انہیں سہارا دے رہی تھی یا خود کو ان کے وجود سے تقویت، فیصلہ مشکل۔
میں نے جلدی جلدی دو کپ کافی بنائی اور ایک کپ امی کے سامنے رکھتے ہوئے،........
