Zuban Darazi
جس وقت میں نے شینن ڈووا میں کام شروع کیا تو گویا میں اسپتال کا پہلوٹھی کا بیٹا تھا۔ ایک چھوٹے شہر میں کوئی بھی نہیں رُکتا تھا لیکن جلد ہی سب کو اندازہ ہوگیا کہ میں رہنے آیا ہوں۔ مجھ سے درخواست کی گئی کہ ذرا کی ذرا آس پاس کے نرسنگ ہوم بھی دیکھ آئیے۔ اب ہم ٹرائی اسٹیٹ ایریا میں رہتے تھے جہاں تین ریاستوں یعنی نبراسکا، آئیووا اور ریاست میزوری کی سرحدیں ملتی تھیں اور سائیکائٹرسٹ تو خال خال ہی تھے۔ انکار کی تاب کس میں تھی۔ ایک مریض کو دیکھنا شروع کیا۔ ہمیشہ ناراض ہی رہتا البتہ مجھ سے تعلقات شاید کچھ بہتر تھے۔ سالوں گزر گئے اور ایک دن خبر ملی کہ مریض وفات پاگئے۔ چھوٹے شہروں میں سب ایک دم دوسرے کو جانتے تھے۔ اُن کی آخری رسومات کے متعلق پوچھا تو معلوم ہوا کہ جنازے میں صرف اُن کی دو بیٹیاں ہی تھیں یا پھر فیونرل ہوم کے ڈائرکٹر تھے۔ زندگی جیسی بھی گزری ہو، ایک عزت دار اختتام سب کا ہی حق ہے۔
کسی شہر میں میری ایک مریضہ بے حد زبان دراز تھیں۔ مجھے معلوم ہوا کہ اُن کی بیٹیاں ایک دوسرے شہر سے ملنے آئی ہیں اور اپنی والدہ کی بیماری کا........
