Zindagi Ke 4 Asool
ریزیڈنسی کے پہلے ہی سال میں جب دنوں ایمرجنسی روم میں کام شروع کیا تو جسمانی طور پر تو میں امریکہ آ چُکا تھا لیکن ذہنی طور پر ابھی تک شاید پاکستان میں تھا۔ لاہور جنرل اسپتال میں ای سی جی کی مشین ڈھونڈتے ڈھونڈتے بہت سا وقت گزر جاتا تھا اور وہ ای سی جی جو دو یا تین منٹ میں ہونی چاہئیے اس کو منٹ اور گھنٹے لگتے تھے لیکن ہمیں وہ کامیابی ہی دکھائی دیتی۔ سارے رت جگے کے بعد صبح تڑکے راؤنڈ کی تعریفیں ہماری انا کو یہ بتاتیں کہ ایک اور یاقوت سر کے تاج گراں میں جڑ گیا۔ حقیقت یہ تھی کہ یہ رجسٹرار یا میڈیکل آفیسر کی نالائقی پر پردہ ڈالنے کا ایک ذریعہ ہی تھا۔ تب تک ہم نہیں جانتے تھے کہ سایہ خواہ لعل و جواہر کا ہی کیوں نہ ہو، چاہے صدیوں ایک ہی مقام پر پڑتا رہے، پھر بھی دوکوڑی کا بھی نہیں ہوتا۔
سایہ سورج کی گرمی سے بچانے میں قیمت پاتا ہے لیکن سورج ڈوبتے ہی بے قیمت رہ جاتا ہے۔ یہ ایک بے قیمت کام تھا۔ اس وقت اگر مریض کو دیکھا جاتا تو فائدہ مریض کا ہوتا۔
اوماہا میں ایک رات کو ایمرجنسی روم میں کام کرتے ہوئے ایک مریض طبی ہدایات کے برعکس اسپتال چھوڑ کر چلا گیا۔ کچھ ہاتھ پیر مارے اور مریض کیلئے کوشش کی تو کی لیکن وہ چلتا بنا۔ دُکھ بھی ہوا اور کچھ ناکامی کا احساس بھی تھا۔
غالبا صبح تڑکے اپنے ڈاکٹر مارسل کو........
